.

"فلسطینی اتھارٹی کی رقومات روکنے سے کشیدگی بڑھے گی"

امریکی ترجمان جین ساکی کی طرف سے اسرائیلی اقدام پر اظہار افسوس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے اسرائیل کی طرف سے فلسطینی اتھارٹی کو محصولات کی رقم کی منتقلی معطل کر نے کی مخالفت کر دی ہے۔ اسرائیل نے یہ اقدام انتقامی کارروائی کے طور پر اٹھایا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی نے ہیگ میں قائم عالمی فوجداری عدالت کی رکنیت کیوں حاصل کی ہے۔

امریکی دفتر خارجہ کی ترجمان جین ساکی نے کہا '' اسرائیل کا یہ اقدام کشیدگی میں اضافے کا ذریعہ بنے گا۔ '' دوسری جانب اسرائیل نے فلسطین کو مزید انتقامی اقدامات کی دھمکی دی ہے۔

حالیہ ''ویک اینڈ'' کے موقع پر امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اسرائیلی وزر اعظم بنجمن نیتن یاہو سے بات چیت کی تھی ، اسی طرح امریکی ٹیم فلسطینی حکام کے ساتھ بھی رابطے میں ہے۔

جین ساکی نے کہا '' ہماری کوشش یہ ہےکہ کشیدگی کو کم رکھیں اور ایک دوسرے کے خلاف ادلے بد لے میں کیے جانے والے اقدامات کو روکا جائے۔''

واضح رہے نومبر دو ہزار بارہ سے فلسطینی اتھارٹی کو اقوام متحدہ میں مبصر کی حیثیت حاصل ہو ئی تو اس وقت بھی اسرائیل نے محصولات سے حاصل ہونے والی رقومات رکی ترسیل فلسطینی اتھارٹی کو روکنے کا اعلان کیا تھا، نیز مغربی کنارے کے انتہائی حساس علاقوں میں مزید یہودی بستیاں تعمیر کرنے کا کہہ دیا تھا۔

اب کی بار اسرائیل نے فلسطینی اتھارٹی نے ایک سو ستائیس ملین امریکی ڈالر کے برابر خطیر رقم کی فلسطینی اتھارٹی کو ترسیل روک دی ہے۔

دوسری جانب امریکا نے فلسطینی اتھارٹی کیطرف سے فوجداری عدالت کا حصہ بننے کے فیصلے پر افسوس ظاہر کیا ہے ، امریکا سمجھتا ہے کہ ایسے فیصلوں سے فلسطینی عوام کی الگ ریاست کی منزل قریب نہیں آئے گی۔