.

داعش کے زیرانتظام میڈیکل کالج قائم، تین سالہ ڈگری کا اجرا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شدت پسند تنظیم دولت اسلامی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے شام میں کے شہر الرقہ میں ایک میڈیکل کالج قائم کیا جس میں تین سال کے دوران چھ مراحل میں طب کی تعلیم دی جائے گی۔ کالج میں زیرتعلیم طلباء کے لیے پریکٹس کا بھی انتظام کیا جائے گا اور تین سال بعد میڈیکل کی ڈگری جاری کی جائے گی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق انسانی حقوق کے مندوبین اور شامی کارکنوں کی جانب سے انٹرنیٹ پر پوسٹ کیے گئے بیانات میں داعش کی طرف سے جاری کردہ اشتہار بھی پوسٹ کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ تنظیم نے شمالی شہر کے شہرالرقہ میں ’’دیوان صحت‘‘ کا شعبہ قائم کیا گیا ہے۔ اس کے زیراہتمام ایک میڈیکل کالج شروع کیا جا رہا ہے جس میں داخلے کے لیے امیدواروں کی عمرکی کم سے کم حد 18 اور زیادہ سے زیادہ 30 سال مقرر کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ امیدوار کا انٹرمیڈیٹ اور سکینڈری امتحانات میں 80 فی صد سے زاید نمبروں کا حصول ضروری ہے۔

ترک خبر رساں ایجنسی’’اناطولیہ‘‘ کی رپورٹ کے مطابق داعش کی جانب سے میڈیکل کی تعلیم کے خوہش مند طلباء کے لیے حالت جنگ کی رعایت رکھی ہے اور کہا ہے کہ جو طلباء میٹرک میں 80 فی صد نمبر حاصل نہیں کرسکے ہیں ان کا ٹیسٹ اور انٹرویو کیا جائے گا جس میں80 فی صد سےزاید نمبر حاصل کرنے والوں کو کالج میں داخلہ دیا جائے گا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کالج الرقہ شہرمیں قائم کیا گیا ہے تاہم اس کی جگہ کا تعین نہیں کیا گیا۔ البتہ کالج میں طلباء کے ساتھ طالبات کے لیے بھی الگ سے شعبہ قائم کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ شام کے شمالی شہر الرقہ کو داعش کا ’’گڑھ‘‘ سمجھا جاتا ہے۔ اس شہر پر داعشی جنگجوئوں نے دو سال قبل نظریاتی طورپر القاعدہ کے قریب سمجھی جانے والی تنطیم النصرہ فرنٹ، شامی فوج اور اپوزیشن فورسز کو نکال باہرکرنے کے بعد قبضہ کیا تھا۔ اس شہر کے تمام علاقے پر داعش ہی کاکنٹرول ہے۔ شہر میں داعش کی حکومت قائم ہے اور اسلام کےسخت گیرقانون نافذ کیے گئے ہیں۔