رفسنجانی تیل کے ایشو پر بات چیت کے لیے سعودی عرب کا دورہ کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کے سیاسی حلقوں میں سعودی عرب اور تہران کے درمیان قربت پیدا کرنے کے حوالے سے سفارتی کوششوں کی خبریں ایک بارپھرتیزی کے ساتھ گردش کرنے لگی ہیں۔ایرانی مجلس شوریٰ کے ایک سینیر رکن نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق صدر اور گارڈین کونسل کے چیئرمین علی اکبر ہاشمی رفسنجانی جلد ہی ریاض کا دورہ کریں گے جہاں وہ سعودی حکام کے ساتھ تیل کی قیمتوں کے معاملے پر تبادلہ خیال کریں گے۔

ایران رُکن پارلیمنٹ محمد رضا تابش نے’’ایسکا نبوز‘‘ کودیئے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ سابق صدرعلی اکبر ہاشمی رفسنجانی ریاض اور تہران میں قربت پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ خاص طورپر تیل کی مسلسل گرتی قیمتوں کے بارے میں وہ سعودی عرب سے بات چیت کے لیے جلد ریاض کا دورہ بھی کریں گے۔

اصلاح پسندوں کے حلقے میں شامل رکن پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ ایران کی اعتدال پسند قیادت کی طرف سے متعدد مرتبہ رفسنجانی سے سعودی عرب کے دورے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ جب سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی آنا شروع ہوئی ہے تب سے اس مطالبے میں بھی شدت آ تی جا رہی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں محمد رضا تابش کا کہنا تھا کہ تیل کی قیمتوں میں اتارو چڑھائو کا تعلق اقتصادی بحران سے نہیں بلکہ اس کے سیاسی محرکات ہیں۔ سعودی عرب اس معاملے میں اہم کرادار ادا کرسکتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اس معاملے میں ریاض کے ساتھ مل بیٹھ کر کوئی درمیانہ راستہ نکالیں۔

واضح رہے کہ سابق ایرانی صدر رفسنجانی نے ایک ہفتہ پیشتر الجزائری سفیر سفیان میمونی سے ملاقات کے دوران کہا تھا کہ سنہ 1990ء کے عشرے میں بھی تیل کی قیمتوں میں اضافے کا مسئلہ پیدا ہوا تھا جسے ہم نے سعودی عرب کے ساتھ بات چیت کے ذریعے حل کرلیا تھا۔
سابق صدر نے تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں کمی صنعی ممالک کی سیاست کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ تیل پیدا کرنے والے ممالک کی نمائندہ تنظیم’’اوپیک‘‘ تیل پیدا کرنے والے ممالک کے حقوق کا خیال رکھنا چاہیے۔ کیونکہ یہ تیل کے صارفین کی نہیں بلکہ پیداواری ممالک کی نمائندہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں