.

داعش نے شام سے عراق میں عسکریت پسندوں کی کمک بلا لی

جنگجو عراقی فوج اور کرد ملیشیا کو نشانہ بنانے پہنچ رہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسلامی انتہا پسندوں نے درجنوں جنگجووں کو شام کے مشرقی شہر دیر الزور سے عراق منتقل کیا ہے۔ تااکہ سکیورٹی فورسز کے خلاف نئی کمک فراہم ہو سکے۔

کوئی متعین تعداد ظاہر کیے بغیر اطلاع دی گئی ہے کہ داعش نے دیر الزور سے بہت سے لوگوں کو عراق میں مختلف محاذوں پر بھجوایا ہے۔ ان جنگجووں کو عراقی فوسز کے علاوہ کرد ملیشیا پیشمرگہ کے خلاف بھی کارروائیوں میں حصہ لینا ہوگا۔

یہ خبر پینٹاگان کی طرف سے اس بیان کہ'' داعش کے انتہا پسند اپنی سپلائی لائن کے دفاع کے لیے زیادہ متحرک ہیں تاکہ امریکی قیادت میں جاری فضائی کارروائیوں سے محفوظ رہ سکیں'' واضح رہے شام سے عراق میں داعش کی سپلائی لائن کا انقطاع امریکا کی زیر قیادت کارروائیوں کا اہم ہدف ہے۔

اس بارے میں پینٹاگان کے ترجمان ایڈمرل جان کربی نے کہا تھا داعش اپنی سپلائی لائن کو بچانے کی کوشش میں ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ عراقی فورسز کو امریکا کی طرف سے تربیت دی جا رہی ہے اور دوہزار پندرہ میں عراقی فورسز اس پوزیشن میں ہوں گی کہ وہ داعش کا توڑ کر سکیں تب تک امریکا اور اس کے عالمی اتحادی اپنی فضائی کارروائٰیاں جاری رکھیں گے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے ان کی کوشش ہے کہ داعش کی جنگی استعداد کمزور کر سکیں۔ لیکن یہ ابھی واضح نہیں کہ داعش کو واقعی اپنی سپلائی لائن بحال رکھنے میں دقت کا سامنا ہے۔

دریں اثناء امریکی قیادت میں میں عالمی اتحادیوں نے داعش کے خلاف کوبانی کے نزدیک پانچ فضائی حملے کیے ہیں جبکہ عراق میں چھ حملے کیے ہیں۔ آٹھ اگست دو ہزار چودہ سے اب تک مجموعی طور پر عالمی اتحادی داعش کے خلاف سترہ سو فضائی حملے کر چکے ہیں۔