.

شام میں نئے خفیہ ایٹمی پلانٹ کی موجودگی کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمنی کے ایک کثیرالاشاعت جریدے ’’ڈر شپیگل‘‘ نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ شام کے صدر بشار الاسد نے خفیہ طور پر زیر زمین ایک جوہری پلانٹ قائم کیا ہے جس میں ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کا کام جاری رہے۔

جریدے نے ہفتے کے روز اپنی اشاعت میں شامل رپورٹ میں بتایا ہے کہ خفیہ طور پر قائم کیا گیا یہ ایٹمی ری ایکٹر لبنان کی سرحد سے تقریباً دو کلومیٹر دور مغربی شام میں القصیر کے پہاڑی علاقے وعرہ المسالک میں واقع ہے۔ جریدے کا دعویٰ ہے کہ اسے سیٹلائیٹ سے شامی حکومت کے خفیہ ایٹی ری ایکٹر کی تصاویر موصول ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی انٹیلی جنس اداروں نے بھی اس کے بارے میں اہم معلومات حاصل کی ہیں۔

'ڈر شپیگل' کے مطابق القصیر شہر جہاں ایٹمی ری ایکٹر قائم کیا گیا ہے اس سے پانی اور بجلی کی لائنیں بھی ملائی گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علامتی طورپر اس خفیہ ایٹمی ری ایکٹر کو ’’زمزم‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ مغربی ماہرین اور تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کمپلیکس میں مبینہ طور پر یورنیم کی افزودگی کا عمل بھی جاری ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ شامی حکومت نے اس نئی ایٹمی تنصیب میں ایندھن کے آٹھ ہزار سلینڈر منتقل کیے ہیں۔ یہ خفیہ جوہری پلانٹ ’’الکبر‘‘ کے نام سے پہلے سے قائم ایک دوسرے مشتبہ جوہری پلانٹ سے کافی حد تک مشابہت رکھتا ہے۔

'الکبر' ایٹمی پلانٹ مشرقی شام میں صحراء میں واقع ہے۔ سنہ 2007ء اس پلانٹ پر فضائی حملہ کیا گیا تھا جس کے نتیجےمیں پلانٹ کو بری طرح نقصان پہنچا۔ شام نے اس حملے کا الزام اسرائیل پر عاید کیا تھا تاہم صہیونی ریاست نے اس کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔