لبنان میں دوہرے خود کش دھماکے میں نو افراد ہلاک

النصری فرنٹ نے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

لبنان کے شہر طرابلس میں ہفتے کی شام ایک ریستوران پر ہونے والے دو خود کش حملوں کے نتیجے میں کم سے کم نو افراد ہلاک اور چالیس کےقریب زخمی ہوگئے ہیں۔ دوسری جانب القاعدہ کی ذیلی تنظیم’النصرہ فرنٹ‘ نے دھماکوں کی ذمہ داری کرتےہوئے اس طرح کے مزید حملے کرنے کی دھمکی دی ہے۔

العربیہ ڈات نیٹ کے مطابق شدت پسند تنظیم کے زیراستعمال مائیکروبلاگنگ ویب سائیٹ’ٹیوٹر‘ کے ایک اکائونٹ پر پوسٹ کیے گئے بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ طرابلس میں جبل محسن کے مقام پر شام کے علوی خاندان کی حامی نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے ایک کیفے کولبنان اور شام میں اہل سنت مسلک کے لوگوں کےقتل عام کے رد عمل میں نشانہ بنایا گیا ہے۔

خیال رہے کہ ہفتے کی شام شمالی لبنان کے شورش زدہ شہر طرابلس میں ابو عمران نامی ایک ہوٹل میں دو سلسلہ اور خود کش دھماکوں میں نو افراد ہلاک اور 37 شدید زخمی ہوگئے تھے۔ زخمیوں میں سے بعض کی حالت خطرے میں بتائی جاتی ہے۔

النصرہ فرنٹ کی جانب سے جاری بیان میں دونوں خود کش بمباروں کی شناخت جاری کی گئی ہے اور بتایا ہے کہ خود کش حملہ طہ سمیر کیال اور بلال محمد ابراہیم نے کیا۔ سمیر کیال کی تاریخ پیدائش1994ء جبکہ بلال ابراہیم کی کی 1986ء کی ہے۔ دونوں کا تعلق طرابلس کی نواحی کالونی منکوبین سے تعلق رکھتے ہیں۔

پولیس نے دونوں خود کش بمباروں کی رہائش گاہوں کا محاصرہ کرکے ان کے گھروں کی تلاشی لی ہے۔ ایک خود کش بمبار طہ خیال کے والد سمیر خیال نے خود کو حکام کے حوالے کردیا ہے اور اس نے اپنے بیٹے کی میت کی شناخت بھی کرلی ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق پہلے خود کش دھماکے میں ہوٹل مین 20 افراد زخمی ہوئے، اس کے فوری بعد ایک دوسرے خود کش بمبار نے خود کو لوگوں کے ھجوم میں گھس کر اڑا دیا جس کے نتیجے میں نو افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوگئے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق طرابلس کے جس علاقے کو خود کش حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے اس میں زیادہ آبادی اہل تشیع مسلک کے علوی قبیلے کی آباد ہے جو شام میں صدر بشارالاسد کے ہمدرد سمجھے جاتے ہیں۔

النصرہ فرنٹ کےعسکریت پسندوں نے علوی قبیلے کی ایک جماعت عرب ڈیموکریٹک پارٹی کی قیادت کو نشانہ بنایا ہے۔ اس سے قبل لبنان کی ایک عدالت نے اسی جماعت کے سربراہ علی عید کی ایک سال قبل طرابلس میں دو مساجد میں بم دھماکوں کے الزام میں گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔

خیال رہےکہ طرابلس میں دہشت گردی کا یہ تازہ واقعہ لبنانی شیعہ ملیشیا اور سابق وزیراعظم سعد حریری کے مابین ملک میں فرقہ واریت کے خاتمے کے حوالے سے مذاکراتی کوششوں کے پانچ روز بعد عمل میں آیا ہے۔ گذشتہ ہفتے سعد حریری اور حزب اللہ کی قیادت کے درمیان ملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی کرنے کم کرنے کے حوالے سے دوسرے مرحلے کی بات چیت ہوئی تھی۔

سعد حریری کی جانب سے جاری ایک تازہ بیان میں طرابلس کے ہوٹل میں دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ملک میں فرقہ واریت پھیلانے کی سازش قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں نے علوی قبیلے کی جماعت کے ہوٹل کو نشانہ نہیں بنایا بلکہ وہ ملک میں فرقہ واریت کی آگ بھڑکانے کی سازش کررہے ہیں۔ انہوں نے متاثرہ فریق سے صبر وتحمل سے کام لینے کی تاکید کی اور سیکیورٹی اداروں پر زور دیا کہ وہ جبل محسن میں خود کش حملوں کی فوری تحقیقات کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں