.

حیدرالعبادی کی عراقی فوج کی مدد میں سست روی پر تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے کہا ہے کہ امریکا کی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد داعش کے خلاف جنگ کے لیے ان کی فوج کو سست روی سے ملٹری اسپورٹ اور تربیت مہیا کررہا ہے۔

انھوں نے یہ بات مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں سرکاری دورے کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔البتہ انھوں نے یہ بھی اعتراف کیا ہے کہ گذشتہ دو ہفتوں کے دوران عراقی فوج کو امداد مہیا کرنے کے عمل میں تیزی آئی ہے۔انھوں نے عراقی فوج کی مدد کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زوردیا ہے۔

قبل ازیں وزیراعظم حیدرالعبادی نے رائیٹرز کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ عراقی فوج کی تشکیل نو کے لیے کم سے کم تین سال کا عرصہ درکار ہوگا۔ان کے بہ قول داعش کے خلاف حالت جنگ میں ایک فعال اور موثر آرمی کی تشکیل ایک چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ داعش عراق میں اپنی پیش رو القاعدہ کی تنظیم سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہم فوج کی تشکیل نو کے عمل میں ایک توازن قائم کرنا چاہتے ہیں تا کہ اس کے داعش کے خلاف لڑائی پر اثرات مرتب نہ ہوں۔واضح رہے کہ وزیراعظم حیدر العبادی نے حال ہی میں فوج کے متعدد اعلیٰ افسروں کو کرپشن کے الزامات پر برطرف کردیا ہے یا جبری ریٹائر کردیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''ہمارے لیے بنیادی ایشو فوجی اور سول اداروں میں کرپشن کے خلاف جنگ ہے کیونکہ اس سے ہی ہمارے فوجیوں کی کارکردگی میں بہتری آئے گی۔آرمی کی تنظیم نو کے لیے بعض حالیہ سادہ اقدامات کی وجہ سے ہمارے فوجیوں کی علاقوں کو واپس لینے اور ان پر کنٹرول کی صلاحیت میں بہتری آئی ہے ''۔

انھوں نے عراقی فورسز کے لیے نئِی جنگی حکمت عملی کے خدوخال بیان کرتے ہوئے کہا کہ آیندہ ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں صدام حسین کے آبائی شہر تکریت کا داعش سے کنٹرول واپس لینے کے لیے کارروائی آغاز کی جائے گی۔

عراقی فوج نے گذشتہ جولائی میں بغداد سے ایک سو ساٹھ کلو میٹر شمال میں واقع اس شہر کو داعش کے حملے کے بعد خالی کردیا تھا۔بعد میں اس نے اس کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کی تھی لیکن اسے داعش کے جنگجوؤں کی سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

وزیراعظم حیدر العبادی نے عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل پر چڑھائی کے لیے کوئی ڈیڈ لائن دینے سے گریز کیا ہے اور صرف یہ کہا ہے کہ اس شہر پر مکمل منصوبہ بندی کے بعد حملہ کیا جائے گا۔

اس وقت امریکا کی قیادت میں مغربی ممالک کے لڑاکا طیارے داعش کے زیر قبضہ عراق کے شمالی اور شمال مغربی شہروں پر بمباری کررہے ہیں اور اس فضائی قوت کی مدد سے ہی برسرزمین عراقی فورسز آگے بڑھ رہی ہیں لیکن انھیں ابھی تک داعش کے زیر قبضہ علاقوں کو واپس لینے میں کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی ہے اور انھیں داعش کے جنگجوؤں کی سخت مزاحمت کا سامنا ہے۔

شام پر تبادلہ خیال

حیدر العبادی نے قاہرہ کے دورے کے موقع پر مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے شام میں جاری تنازعے کے پرامن حل کے لیے عراق کی جانب سے پیش کردہ حالیہ تجویز پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ عراق نے داعش سے واپس لیے جانے والے علاقوں میں عبوری دور کے لیے شامی حکومت اور حزب اختلاف کی ایک مشترکہ انتظامیہ کے قیام کی تجویز پیش کی ہے۔انھوں نے کہا کہ اس تجویز کا مقصد ان علاقوں میں نئے دہشت گرد گروپوں کے ظہور کو روکنا ہے تا کہ وہاں سے داعش کے انخلاء کے بعد خونریزی نہ ہو۔