.

فرانس میں قتل یہودیوں کی میتیں تدفین کے لیے بیت المقدس منتقل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس میں گذشتہ جمعہ کے روز دارالحکومت پیریس میں ایک یہودی کے ملکیتی سپر اسٹور پر دہشت گردی کے حملے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے چار یہودیوں کی میتیں تدفین کے لیے مقبوضہ بیت المقدس منتقل کردی گئی ہیں جہاں انہیں کل دفن کیا جائے گا۔

خبر رساں ایجنسی’’اے ایف پی‘‘ کے مطابق فرانسیسی یہودی گروپ کی جانب سے بتایا گیاہے کہ کوشٹرا سپر اسٹورپرحملے اور مسلح افراد کی جانب سے یرغمال بنائے جانے کے دوران چار یہودی ہلاک ہوئے تھے۔ ان کی تدفین مقبوضہ بیت المقدس میں جبل زیتون کے مقام پر اسرائیل کے مقامی وقت کے مطابق منگل کو صبح 10 بجے کی جائے گی۔

رپورٹس کے مطابق ہلاک یہودیوں کی شناخت یوھان کوھین، یوھاف حطاب، فیلپ ابراہام اور فرانسو میچل سعادہ کے ناموں سے کی گئی ہے۔ ان کی میتیں ایک خصوصی طیارے کے ذریعے اسرائیل منتقل کردی گئی ہیں جہاں ان کا پوسٹ مارٹم جاری ہے۔

یوھان کوھین کا تعلق شمالی پیریس کے علاقے سارسیل سے ہے۔ گذشتہ برس فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی حملے کے بعد فرانس کے اس شہر میں بڑے پیمانے پر جنگ مخالف احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے جو بعد ازاں پرتشدد احتجاج میں تبدیل ہوگئے تھے۔ مسٹر کوھین پچھلے ایک سال سے ایک فرانسیسی فرم میں ملازم تھا۔

سارسیل بلدیہ کے چیئرمین فرانسو بوبونی نے بتایا کہ وہ منگل کےروز مشرقی یروشلیم میں یہودیوں کی تدفین اور آخری رسومات میں مقتول کوھین کے خاندان کے ہمراہ شرکت کریں گے۔

مقتول یہودیوں میں 21 سالہ یوھاف حطاب عرب ملک تیونس کے دارالحکومت کے قریب وادی حلق کے ایک یہودی ربی کا بیٹا ہے۔تیونس میں حالات خراب ہونے کے بعد اس کے والد نے اسے تعلیم کے حصول کے لیے فرانس بھیج دیا تھا۔
سنہ 1985ء میں ایک یہودی معبد میں تیونسی فوجی کی فائرنگ سے یوھاف حطاب کے والد کی ایک سترہ سالہ ہمیشرہ ہلاک ہو گئی۔ مقتول یہودیوں میں 64 سالہ فرانسو میچل سعادہ کا تعلق بھی تیونس سے بتایا جاتا ہے۔