اسرائیل: دو مسلم خیراتی اداروں پر پابندی، رضا کار گرفتار

خیراتی ادارے دہشت گردوں کی مالی امداد کرتے تھے: پولیس ترجمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی پولیس اور اسرائیل سکیوٹی ادارے شین بیت نے مسلمانوں کے دو خیراتی اداروں کے دفاتر اس شبہے میں بند اور کارکن حراست میں لے لیے ہیں کہ دونوں ادارے دہشت گردی کی مالی سرپرستی کرتے تھے۔

اسرائیلی پولیس کے کریک ڈاون کی زد میں آنے والے اداروں میں مشرقی یروشلم میں قائم مسلم خواتین برائے الاقصی اور شمالی اسرائیل کے عرب شہر نظارات میں قائم تنظیم الفجر شامل ہیں۔

ان تنظیموں کے بارے میں اسرائیلی پولیس کو شک ہے کہ یہ دونوں حماس کی حامی ہیں اور مسجد اقصی میں یہودیوں کی آمدو رفت کو روکنے کی سرگرمیوں کی مزاحمت کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔

واضح رہے انتہا پسند یہودی مسجد اقصی میں داخل ہونے کی کوشش میں رہتے ہیں اور اس سلسلے میں اسرائیلی سکیورٹی ادارے ان کی مکمل حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ ان کی مسجد اقصی میں آمد کے موقع پر تناو کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے اور دو طرفہ پتھراو بھی دیکھنے میں آتا ہے۔

پولیس کی طرف سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق ان دونوں خیراتی اداروں کے دفاتر میں موجود ریکارڈ اور کمپیوٹرز قبضے میں لے لیے گئے ہیں ، دفاتر بند کر دیے گئے ہیں اور ان کے ساتھ وابستہ رضا کاروں کو گرفتار کر کے ان سے پوچھ گچھ شروع کر دی گئی ہے۔

کیونکہ ان کی سرگرمیاں مبینہ طور پر امن کے لیے خطرہ تھیں اور وہ دہشت گردی کے مرتکب افراد کو مالی امداد دیتی تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں