.

حسنی مبارک کو سنائی گئی سزا کا حکم کالعدم

سابق صدر کے خلاف کرپشن کے مقدمے کی دوبارہ سماعت کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی ایک اعلیٰ عدالت نے سابق صدر حسنی مبارک کو کرپش کے الزامات میں سنائی گئی تین سال قید کی سزا کالعدم قرار دے دی ہے اور ان کے خلاف اس کیس کی دوبارہ سماعت کا حکم دیا ہے۔

قاہرہ کی ایک ماتحت عدالت نے معزول صدر کو گذشتہ سال مئی میں ایک لاکھ مصری پاؤنڈز سے زیادہ رقم خرد برد کرنے کے الزام میں تین سال قید کی سزا سنائی تھی۔سابق صدر پر الزام تھا کہ انھوں نے صدارتی محل کی تزئین وآرائش کے لیے مختص کی گئی رقم میں غبن کیا تھا۔

اعلیٰ عدالت نے سابق صدر کے دونوں بیٹوں علاء اور جمال کو کرپشن کے مقدمے میں سنائی گئی چار چار سال قید کا حکم بھی کالعدم قرار دے دیا ہے۔تاہم اس عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ واضح نہیں کیا ہے کہ حسنی مبارک اب آزاد ہیں یا وہ زیر حراست ہی رہیں گے۔

ان کے وکیل فرید الدیب کا کہنا ہے کہ ان کے موکل کی رہائی ہوسکتی ہے کیونکہ وہ پہلے ہی تین سال جیل میں گزار چکے ہیں۔ وہ اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد دوسال سے زیادہ عرصے تک جیل میں قید رہے تھے اور انھیں اگست 2013ء میں رہا کیا گیا تھا۔تب سے وہ قاہرہ کے جنوب میں واقع علاقے معدی میں ایک فوجی اسپتال میں نظربند ہیں۔

قبل ازیں حسنی مبارک پر سنہ 2011ء کے اوائل میں ان کی حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک کے دوران مظاہرین کی ہلاکتوں کا مقدمہ بھی ختم کیا جاچکا ہے۔عدالت کے اس فیصلے کے خلاف مصر بھر کی جامعات کے طلبہ نے شدید احتجاج کیا تھا اور قاہرہ کے مشہور میدان التحریر میں سکیورٹی فورسز کی مظاہرین پر فائرنگ سے دو افراد ہلاک اور نو زخمی ہوگئے تھے۔

حسنی مبارک نے عدالت میں اس مقدمے میں اپنا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ انھوں نے اپنے خلاف عوامی بغاوت کے دوران مظاہرین کی ہلاکتوں کا حکم نہیں دیا تھا۔حسنی مبارک ،ان کے وزیرداخلہ اور چھے سکیورٹی مشیروں کے خلاف جنوری اور فروری 2011ء میں اٹھارہ روزہ حکومت مخالف عوامی تحریک کے دوران قریباً ساڑھے آٹھ سو مظاہرین کی ہلاکتوں کے الزام میں دوبارہ مقدمہ چلایا گیا تھا اور عدالت نے انھیں اس میں بری کردیا تھا۔