شام میں داعش کے جنگجوئوں میں پھوٹ پڑ گئی

شدت پسند عہدوں کے لیے ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام اور عراق میں سرگرم شدت پسند تنظیم دولت اسلامی’’داعش‘‘ کی صف اول اور دوم کی قیادت میں بھی مختلف عہدوں اور مناصب کے حصول کی ایک دوڑ لگی ہوئی ہے۔ مناصب کے حصول کی اس کشمکش میں داعش میں بڑے پیمانے پر پھوٹ پڑنے کی بھی اطلاعات ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق پہلے سے عہدوں پر متعین جنگجو دوسروں کے لیے عہدے چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں جس کے نتیجے میں داعش میں گروپ بندی بنتی جا رہی ہے۔ میڈیا پورٹس کے مطابق داعش کی صفوں میں اختلافات چند ماہ پہلے اس وقت پیدا ہوئے جب عسکریت پسندوں کے عہدوں میں رد و بدل کا سلسلہ شورع کیا گیا۔ شام کے مختلف شہروں میں متعین داعشی کمانڈروں کی تبدیلی کی کوششوں کے دوران کئی کمانڈروں نے عہدے چھوڑنے سے صاف انکار کر دیا، جس کے بعد داعشی جنگجو ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہو گئے۔

رپورٹ کے مطابق گذشتہ مہینے شام کے شہر دیر الزور میں کماندر عامر رفدان کی جگہ ایک دوسرے کمانڈر کو شہرکا گورنر مقرر کرنے کی کوشش کی گئی تو رفدان نے شہر کی گورنری چھوڑنے سے نہ صرف انکار کر دیا بلکہ اپنے مدمقابل امیدوار کے خلاف بندوق اٹھالی۔ اس کے بعد دیر الزور میں داعش کے دو گروپ بن گئے جو عہدوں اور مناصب کے لیے ایک دوسرے کے خلاف برسرپیکار ہیں۔

شام کے ایک دوسرے شہر الرقہ میں بھی داعشی جنگجوئوں کے درمیان اختلافات کی خبریں آ رہی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق الرقہ میں داعش کے مرکزی عہدیدار موسیٰ الشواخ المعروف ابو لقمان الرقاوی کو اس وقت اپنے ساتھیوں کے خلاف بندوق اٹھانا پڑی جب ان میں سے بعض غیر ملکیوں نے اپنے ممالک میں واپس جانے کی خواہش ظاہر کی۔ الرقاوی نے انہیں واپس جانے سے روکا جس پر شدت پسندوں نے ایک دوسرے کے خلاف بندوقیں اٹھالیں۔ موسیٰ الرقاوی کو اپنے دفاع کے لیے مخالف تنظیم النصرہ فرنٹ سے اتحاد کرنا پڑا۔

اردن کے یرغمال بنائے گئے پائلٹ معاذ الکساسبہ کے معاملے میں بھی داعش کی صفوں میں اختلافات پیدا ہوئے ہیں۔ داعش میں شامل چیچن گروپ معاذ کو قتل کرنے پر زور دے رہا ہے جبکہ داعش کا عراقی گروپ اسے زندہ رکھنے کا قائل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں