مصر میں سمارٹ کارڈ کے ذریعے سستی روٹی سکیم

جو حسنی مبارک طویل حکمرانی میں نہ کر سکے السیسی کر گذرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مصر کے فوجی پس منظر کے حامل صدر عبدالفتاح السیسی نے معاشی پریشانیوں میں مبتلا شہریوں کو نہ صرف ماضی کے حکمرانوں کے مقابلے میں سبسڈائزڈ نرخوں پر سستی روٹی کی فراہمی یقینی بنالی ہے بلکہ اس کی دستیابی بذریعہ سمارٹ کارڈ بھی ممکن بنا دی ہے۔

اس سے پہلے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں وزیر اعلی میاں شہباز شریف نے کچھ برس پہلے سبسڈائزڈ نرخوں پر سستی روٹی فراہم کرنے کا منصوبہ اربوں روپوں سے شروع کیا تھا لیکن وہ زیادہ دیر تک نہ چل سکا ، ان کے مخالفین نے ان کے اس منصوبے کو قومی وسائل تنوروں میں جھونک دینے کے منصوبے کا نام دیا اور بعدازاں یہ سستی روٹی سکیم بند کرنا پڑی۔

لیکن اب افریقی ملک مصر میں اس کی ایک جدید شکل سامنے آئی ہے ۔ واضح رہے مصر اور پاکستان روایتی طور پر امریکا کے اتحادی ملک سمجھے جاتے ہیں۔ لیکن امریکا کے ان اتحادیوں کے شہریوں کے لیے روٹی جیسے بنیادی مسائل بھی حل کے طالب نظر آتے ہیں۔

صدر السیسی نے مصری عوام کے اس دیرینہ مسئلے کو حل کرنے میں ابتدائی کامیابی حاصل کی ہے اگرچہ ان کے پیش رو حسنی مبارک سالہا سال تک حکمران رہنے کے باوجود اس معاملے میں اسی طرح ناکام رہے جس طرح ایک سال تک مصر کے منتخب صدر مرسی کامیاب نہ ہو سکے تھے۔

اس سے عوام میں غم وغصہ کی فضا رہی ہے۔ تاہم ابھی صدر السیسی کو بھی یہ نظا م پورے ملک میں پھیلانے میں وقت لگے گا۔ مصر عوام نسل در نسل حکومت سے اعانتی نرخوں پر آٹا حاصل کرتی رہی ہے ۔ ماضی میں حکومت یہ آٹا بیکریوں کے حوالے کرتی تھی جو روٹی کی شکل میں شہریوں کو دیتی۔

مصر دنیا میں سب سے زیادہ گندم درآمد کرنے والا ملک ہے۔ مصر کو ہر سال تین ارب ڈالر کی خطیر رقم خرچ کرنا پڑتی ہے۔ یوں مصری خزانے سے یہ بھاری زرمبادلہ نکل جاتا ہے۔۔ لیکن اس کے باوجود عوام مطمئن نہیں ہو پائے۔

عوام کے مطمئن نہ ہونے کی ایک وجہ یہ ہوتی تھی کہ ان کے پہنچنے سے پہلے ہی روٹی ختم ہو چکی ہوتی تھی۔ کہ یہ سستی روٹی پہلے آئیے پہلے پائیے کی بنیاد پر ملتی تھی۔ دیر سے بیدار ہونے والے بطور خاص اس سستی روٹی سے محروم رہتے تھے۔

عوام کو یہ بھی شکایات تھی کہ انہیں اس سستی روٹی کے لیے دیر تک لمبی قطاروں میں لگنا پڑتا تھا۔ اب السیسی حکومت نے اس سستی روٹی کا حصول سمارٹ کارڈ کے ذریعے بھی ممکن بنادیا ہے۔ ابتدائی طور پر یہ سمارٹ کارڈز مصر کے سترہ صوبوں میں جاری کیے گئے ہیں۔

حکام کا خیال ہے کہ ماضی کی طرح اب یہ شکایات باقی نہ رہیں گی کہ بیکریوں والے آٹا بلیک مارکیٹ میں فروخت کر دیتے تھے ۔ اب سارا معاملہ شفاف ہو گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں