.

ایرانی حزب اللہ کی فرانسیسی جریدے پر حملے کی حمایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی’’ انصار حزب اللہ‘‘ نامی ایک عسکری تنظیم نے گذشتہ ہفتے فرانس کے دارالحکومت پیرس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے مرتکب جریدے’’چارلی ہیبڈو‘‘ پر مسلح افراد کے حملے کی تحسین کی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ’’انصار حزب اللہ‘‘ کے ترجمان فارسی ہفت روزہ’’یا لثارات الحسین‘‘ کے اداریئے میں چارلی ہیبڈو پر مسلح افراد کے حملے کی تعریف کرتے ہوئے جریدے سے وابستہ ملازمین کی ہلاکت پر مسلم امہ کو مبارک باد پیش کی گئی ہے۔

اداریے میں کہا گیا ہے کہ گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے مرتکب اخبار کے وابستگان کا جو انجام ہوا ہے وہ اسی کے لائق تھے۔ یہ اچھا ہوا کہ پغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والوں کو جہنم رسید کر دیا گیا۔

فارسی جریدے کے مطابق نبی کے گستاخوں کو موت کے گھاٹ اتارنا شریعت اور انصاف کے اصولوں کے مطابق ہے۔ اس کارروائی کو دہشت گردی یا داعش کے ساتھ جوڑ کر متنازعہ نہیں بنایا جا سکتا ہے۔

اخبار مزید لکھتا ہے کہ فرانسیسی جریدے پر حملے کا منصوبہ کئی ماہ قبل تیار کیا گیا تھا۔ اس منصوبے کا مقصد ہمارے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شان میں گستاخی کے مرتکب عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانا تھا۔ جریدے نے صدر حسن روحانی کی جانب سے فرانسیسی جریدے کے دفتر پر حملے کے رد عمل میں اختیار کیے گئے موقف پر تنقید کرتے ہوئے اسے ’جذباتی‘ قرار دیا۔

خیال رہے کہ فرانس میں گذشتہ ہفتے ہونے والے پرتشدد واقعات کے ردعمل میں ایران میں ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ ایران کی نیم سرکاری عسکری ملیشیا پاسیج فورس کے چیف جنرل محمد رضا نقدی نے گذشتہ روز اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ پیرس دہشت گردوں کا گڑھ بن چکا ہے۔ نیز یہ کہ فرانس میں یورپ نے اسلام کے نام پر جرائم شروع کر رکھے ہیں۔

جنرل رضا نقدی کا بیان ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف کے بیان کے برعکس ہے۔ وزیرخارجہ نے فرانسیسی اخبار پرمسلح افراد کے حملے کی شدید مذمت کی تھی۔ جزیرۃ العرب میں سرگرم القاعدہ کی جانب سے فرانسیسی جریدے پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی پیغمبر اسلام کے گستاخوں کے خلاف القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کے حکم پر کی گئی ہے۔