.

عراق میں سرگرم ایرانی جنرل داعش کے حملے میں زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں پچھلے کئی ماہ سے سرگرم ایرانی پاسداران انقلاب کے جنرل قاسم سلیمانی دولت اسلامی’’داعش‘‘ کے ساتھ لڑائی میں شدید زخمی ہوئے ہیں۔ زخمی ہونے کے بعد انہیں عراق میں ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد ایران منتقل کر دیا گیا ہے۔

عراق کے خبررساں اداروں اور ذرائع ابلاغ کے مطابق جنرل قاسم سلیمانی چند روز قبل سامراء شہرمیں دولت اسلامی کے جنگجوئوں کے ساتھ لڑائی کے دوران ایک خود کش حملے میں شدید زخمی ہوگئے تھے۔

عراقی حکومت کی جانب سے جنرل قاسم سلیمانی کے زخمی ہونے کے بارے میں کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا تاہم عراق میں شیعہ ملیشیا کے ایک سرکردہ عہدیدار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جنرل سلیمانی دو ہفتے قبل سامراء میں داعشی جنگجو کے ایک خود کش حملے میں زخمی ہو گئے تھے۔ اُنہیں فوری طور پر محاذ جنگ سے بغداد لے جایا گیا، وہاں سے نجف میں طبی امداد کی فراہمی کے بعد تہران منتقل کر دیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی پاسداران انقلاب کی ایک نجی عسکری ملیشیا القدس بریگیڈ کے سربراہ تھے۔ زخمی ہونے کے بعد تہران حکومت نے ان کی جگہ ایک نئے عہدیدار کو تنظیم کا سربراہ مقرر کیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی شدید زخمی ہیں تاہم ایران کی طرف سے ان کے زخمی ہونے کی خبر کو تاحال صیغہ راز میں رکھا گیا ہے۔ تاہم ایرانی حکومت کی جانب سے حال ہی ایک بیان سامنے آیا تھا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاسداران انقلاب کے دو اہم عہدیدار عراق میں لڑائی کے دوران زخمی ہوئے ہیں تاہم ان کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔

خیال رہے کہ گذشتہ مہینے عراق میں ایران کے جنرل حمید تقوی بھی داعش کے خلاف لڑائی میں ہلاک ہو گئے تھے۔ ان کی نماز جنازہ 30 دسمبر کو ادا کی گئی تھی جس میں جنرل قاسم سلیمانی نے بھی شرکت کی تھی۔