.

غزہ : تعمیر نو میں تاخیر انتہا پسندی کا باعث بنے گی:حماس

چار ماہ گذرنے کے باوجود تعمیرنو کا کام نہ ہونے کے برابر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حماس کے اعلی حکام نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں تعمیرو بحالیات کا کام تیز نہ کیا گیا تو غزہ دہشت گردی کی پرورش کے لیے آماجگاہ بن سکتا ہے

حماس حکام نے دوٹوک الفاظ میں کہا '' ہمارا اس دنیا کے لیے یہ پیغام ہے جو انتہا پسندی اور دہشت گردی سے خوف زدہ ہے کہ غزہ کی تعمیر نو میں تاخیر جاری ہے اور اس کی مسلسل ناکہ بندی اسے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا پورا ماحول فراہم کرے گی، جس کے نتیجے میں دہشت گردی کا پھیلاو ہوگا۔''

خلیل الحیا نے مقامی ارکان پارلیمنٹ کے ایک اجلاس کے دوران مزید کہا '' ہم ابھی سے تعمیر نو میں تاخیر کے مضمرات سے آگاہ کر رہے ہیں۔

واضح رہے اسرائیل نے پچھلے سال جولائی اور اگست کے دوران غزہ پر پچاس دنوں کے لیے جنگ مسلط کی تھی ، اس دوران خوفناک اسرائیلی بمباری کی وجہ سے بائیس سو فلسطینی شہید ہوئے جبکہ ایک لاکھ فلسطینیوں کے گھر تباہ ہوجانے کے باعث انہیں بے گھر ہونا پڑا تھا۔

لیکن جنگ کو ختم ہوئے چار ماہ سے زائد عرصہ گذرنے کے باوجود غزہ کی تعمیر نو کا کام نہ ہونے کے برابر ہی شروع ہو سکا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیل نے محاصرہ نرم بھی کر دیا تو اس کام کو کئی سال لگ سکتے ہیں۔ اسرائیل نے غزہ کی پٹی کو آٹھ سال سے محاصرے میں لے رکھا ہے۔

اسرائیل جو غزہ کے تین اطراف سے راہداریوں کو کنٹرول کرتا ہے نے تعمیراتی سامان کی غزہ منتقلی کو سختی سے روک رکھا ہے۔ اسرائیل کو خوف ہے کہ یہ سامان عسکریت پسند اسلحہ سازی کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔