.

کم سن داعشی جنگجو کے ہاتھوں دو یرغمالی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دہشت گرد تنظیم ’’دولت اسلامی‘‘ کی جانب سے انٹرنیٹ پر ویڈیو فوٹیج پوسٹ کی گئی ہے جس میں ایک کم عمرلڑکے کو پستول کے ذریعے یرغمال بنائے گئے دو افراد کو گولیاں مار کرہلاک کرتے دکھایا گیا ہے۔ فوٹیج میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ قتل کیے گئے دونوں افراد روسی خفیہ اداروں کے لیے داعش کی جاسوسی کر رہے تھے۔

اس ویڈیو فوٹیج سے داعش پر اپنی مذموم جنگی مقاصد کے لیے بچوں کے استعمال کے الزامات کی تصدیق ہوتی ہے۔

العربیہ ٹی وی کے برادری نیوزچینل ’’الحدث‘‘ کی رپورٹ کے مطابق انٹرنیٹ پر پوسٹ کی فوٹیج میں ایک عسکریت پسند کے پہلو میں کھڑے کم سن جنگجو کو رسیوں میں جکڑے دو افراد کے سروں میں پستول سے گولیاں مارتے اور انہیں موت کے گھاٹ اتارتے دکھایا گیا ہے۔ یہ فوٹیج اس بات کا بین ثبوت ہے کی داعش میدان جنگ میں اپنے مقاصد کے حصول کے لیے کم عمر افراد کو بھی استعمال کر رہی ہے۔

اسی فوٹیج میں گولیاں مارنے سے قبل یرغمال بنائے گئے دونوں افراد کو روسی زبان میں ماسکو کے خفیہ اداروں کے لیے داعش کی جاسوسی کا اعتراف جرم کراتے دکھایا گیا ہے۔ انہوں نے مبینہ طور پر روس کے خفیہ اداروں کو داعش کی قیادت اور تنظیم ٹھکانوں کے بارے میں معلومات فراہم کی تھیں۔

فوٹیج میں مبینہ جاسوسوں کو گولیاں مارنے والے لڑکے کا تعارف عبداللہ کے نام سے کیا گیا ہے جس کا تعلق وسطی ایشیائی ریاست قزاقستان سے بتایا گیا ہے۔ خیال رہے کہ شام اور عراق میں سرگرم دولت اسلامی کی جانب سے ماضی میں بھی ایسی کئی فوٹیجز جاری کی جاتی رہی ہیں جن میں بچوں کو جنگی تربیت دینے اور انہیں میدان جنگ میں استعمال کرتے دکھایا گیا ہے۔ ان ویڈیوز میں بارہ اور تیرہ سال کے لڑکوں کو جنگی تربیت دیتے دکھایا گیا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے داعش کے اس ہتھکنڈے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین اور بچوں کے حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔