.

داعش کا انتقام، 17 شامی مخالفین قتل

مقتولین پر 12 داعشی جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کا الزام تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے حالیہ دنوں کے دوران شام کے مشرقی اور شمالی شہروں میں اپنے جنگجوؤں کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیے سترہ افراد کو گولیاں مار کر موت کی نیند سلا دیا ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے جمعہ کو اطلاع دی ہے کہ ''دولت اسلامی عراق وشام (داعش) نے دیرالزور میں سولہ افراد کو قتل کیا ہے اور ایک شخص کو الرقہ میں ہلاک کیا ہے۔اس طرح اس نے حال ہی میں بارہ شامی ،عراقی اور الجزائری جہادیوں کو قتل کرنے والے اپنے مخالفین کو ایک سخت پیغام دے دیا ہے''۔

رامی عبدالرحمان نے شام میں موجود اپنے ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ ''ان تمام مقتولین پر داعش کے خلاف لڑنے کا الزام تھا لیکن ان میں سے صرف ایک شخص کا داعش کے جنگجوؤں کی ہلاکت سے تعلق ثابت ہوا ہے''۔

ان کا کہنا ہے کہ ''داعش نے اس طرح اپنے زیرنگیں علاقوں میں مقیم تمام لوگوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ اگر انھوں نے کوئی گڑ بڑ کی تو ان کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک کیا جاسکتا ہے''۔

واضح رہے کہ صوبہ الرقہ اور تیل کی دولت سے مالا مال صوبہ دیرالزور کے بیشتر علاقے داعش کے کنٹرول میں ہیں۔اس کے جنگجوؤں نے گذشتہ دو روز میں جن افراد کو گولیاں مار کر موت سے ہم کنار کیا ہے،ان میں دیرالزور میں آباد سنی قبیلہ شعیطات کے پانچ ارکان بھی شامل ہیں۔

اس قبیلے نے گذشتہ سال داعش کے خلاف مسلح بغاوت کی تھی اور اس کو اس بغاوت کا خمیازہ بھاری جانی نقصان کی صورت میں بھگتنا پڑا تھا۔داعش کے جنگجوؤں نے اس بغاوت کو طاقت سے کچل دیا تھا اور اس قبیلے کے نوسو سے زیادہ ارکان لڑائی میں مارے گئے تھے یا انھیں پکڑ کر سفاکانہ انداز میں قتل کردیا گیا تھا۔

داعش کے جنگجو عراق اور شام میں اپنے زیر قبضہ علاقوں میں صرف اپنے مخالفین ہی کو قتل نہیں کررہے ہیں بلکہ اپنی صفوں میں علم بغاوت بلند کرنے یا مرکزی قیادت کی پالیسیوں سے انحراف کرنے والوں کو بھی موت کی نیند سلا رہے ہیں۔ دوروز قبل ہی داعش کے خلیفہ ابوبکر البغدادی کے حکم پر عراق کے خود مختار شمالی علاقے کردستان کے دارالحکومت اربیل کے نواح میں شکست کے بعد چھپن داعشی جنگجوؤں کو قتل کر دیا گیا ہے۔

العربیہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق خلیفہ ابوبکر البغدادی نے اربیل کے جنوب میں واقع علاقے کوبر میں داعش کے جنگجوؤں کی شکست کے بعد اس کے ذمے داروں کو قتل کرنے کا حکم صادر کیا تھا اور ان جنگجوؤں کو موصل کے مشرق میں واقع علاقے النمرود میں فائرنگ کرکےموت کے گھاٹ اتارا گیا ہے۔