.

شام میں اسرائیلی بمباری کا منہ توڑ جواب دیں گے: حزب اللہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کی سخت گیر شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل حسن نصر اللہ نے دھمکی دی ہے کہ حالیہ چند برسوں کے دوران اسرائیل نے شام میں جو فضائی حملے کیے ہیں ان کا کسی بھی وقت جواب دیا ج اسکتا ہے۔ ان کا کہنا کہ اسرائیل نے شام میں مزاحمت کے مراکز کو نشانہ بنایا ہے، ہم ان حملوں کا جواب دینے کا حق رکھتے ہیں اور ہمارے پاس جوابی کارروائی کے لیے تمام آپشن کھلے ہیں۔

لبنان سے نشریات پیش کرنے والے عربی ٹی وی ’’المیادین‘‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں الشیخ حسن نصراللہ کا کہنا تھا کہ ہم اسرائیل کی جانب سے لبنان کے خلاف ممکنہ جنگ کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حزب اللہ ہر طرح کے جدید ہتھیاروں سے لیس ہے اور ہم ماضی کے مقابلے میں زیادہ مضبوط اور طاقت ور ہیں۔ جنگ مسلط کی گئی تو دشمن کو ناکوں چنے چبوائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل نے حالیہ چند برسوں کے دوران شام میں مزاحمت کے مراکز کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ ہم شام کی سرزمین پر اسرائیل کے حملوں کو مزاحمت کے محور پر حملے قرار دیتے ہیں اور ہم اس کا بھرپور جواب دیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں حزب اللہ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ شام میں اسرائیلی حملوں کا جواب دینا مزاحمتی محور میں شامل ممالک کی ذمہ داری ہے۔ دمشق کے خلاف اسرائیلی جارحیت پر ہم خاموش نہیں رہیں گے۔ اسرائیلی حملوں کا جواب صرف شام ہی کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہم سب کی ہے۔ مناسب وقت آنے پر ہم دشمن کے خلاف بھرپور جوابی کارروائی کریں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیل شام میں سنہ 2011ء میں شروع ہونے والی مسلح بغاوت کے بعد متعدد مرتبہ شام کی سرزمین میں بمباری کر چکا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے شام میں آخری حملہ گذشتہ برس دسمبر میں کیا تھا جس میں مبینہ طور پر اسلحہ کے ڈپوئوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔.اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس نے شام میں حزب اللہ کو بھاری ہتھیاروں کی فراہمی روکنے کے لیے اسلحہ کے اس ذخیرہ پر بمباری کی تھی جسے حزب اللہ کو فراہم کیا جانا ہے۔