جوہری مذاکرات کے دوران قیدیوں کے تبادلے پر ایران۔ امریکا بات چیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایرانی وزارت خارجہ کی ترجمان مرضیہ افخم نے کہا ہے کہ پچھلے چند ہفتوں کے دوران تہران کے متنازعہ جوہری پروگرام کے حوالے سے مذاکرات کے ادوار میں امریکا اور ایران کے درمیان قیدیوں کے تبادلے پربھی بات چیت ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں نے انسانی بنیادوں پر قیدیوں کےتبادلے یا رہائی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی’’ایرنا‘‘ کی جانب سے ترجمان وزارت خارجہ کا ایک بیان جاری کیا گیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ جوہری تنازع کے حوالے سے ایران اور مغرب کے ساتھ بات چیت کےمیں امریکا کے ساتھ انسانی بنیادوں پر قیدیوں کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔ امریکی انتظامیہ نے بھی اخبار’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ کے ایران میں زیرحراست نامہ نگار جائیسون رضائیان کی رہائی مطالبہ کیا ہے۔

ام افحم کا کہنا ہے کہ ہم نے امریکا کے سامنے پوری وضاحت کے ساتھ قیدیوں کا معاملہ پیش کیا ہے۔ امریکا کو بتا دیا ہے کہ ایران میں جن قیدیوں کی رہائی کی امریکا بات کررہا ہے ان کے خلاف عدالتوں میں کیس چل رہے ہیں۔ تاہم اس کے باوجود حکومت ان کی رہائی کے لیے ماحول سازگار بنانے کی ہرممکن کوشش کرے گی۔

خیال رہے کہ بدھ کے روز ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف نے جنیوا میں اپنے امریکی ہم منصب جان کیری سے طویل ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات کے دوران بھی ایران میں گرفتار واشنگٹن پوسٹ کے نامہ نگار جائیسون رضائیان کی رہائی پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا تاہم اس موقع پر بھی ایرانی وزیرخارجہ نے موقف اختیار کیا تھا کہ مسٹر رضائیان کا معاملہ عدالت میں ہے۔ عدالت اس کے بارے میں جو فیصلہ کرے گی اس پرعمل درآمد کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ امریکی نژاد ایرانی صحافی جائیسون رضائیان پچھلے چار ماہ سے تہران میں قید ہے۔ حال ہی میں ایرانی پراسیکیوٹر جنرل نے اس کے خلاف ایک انقلاب عدالت میں مقدمہ کی کارروائی شروع کی ہے۔

خبر رساں ایجنسی ’فارس’ کے مطابق ایرانی پراسیکیوٹر جنرل عباس جعفر دولت آبادی کا کہنا ہے کہ ملزم کے خلاف مکمل تحقیقات کے بعد معاملہ انقلاب عدالت کو سپرد کیا گیا تاکہ وہ اس کی روشنی میں فرد جرم عاید کرسکے تاہم انہوں نے مقدمہ کی مزید تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا ہے۔

صحافی جیسون 22 جولائی 2012ء سے ایران میں اپنی اہلیہ یغانہ صالحی سمیت صحافتی خدمات انجام دے رہا ہے۔ ایرانی پولیس نے انہیں چار ماہ قبل حراست میں لیا تھا۔ تاہم اس کی اہلیہ کو ضمانت پر رہا کردیا گیا البتہ جیسون کی قید میں04 دسمبر 2014ء کو مزید 60 روز کی توسیع کردی گئی تھی۔

چند ماہ قبل امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے بھی کہا تھا کہ انہوں نے ایران سے تین امریکی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران میں امریکی میرینز کے سابق اہلکار امیر حکمتی، مذہبی پیشوا سعید عابدینی اور صحافی جیسون رضائیان کی رہائی کے لیے بات چیت جاری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں