سیاسی حمایت کے بدلے مالکی ۔ کردستان تیل معاہدے کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

عراق کے سابق وزیراعظم نوری المالکی کا ایک نیا اسکینڈل سامنے آیا ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ انہوں نے تیسری مرتبہ وزارت عظمی کے حصول میں کردوں کی مدد کے لیے صوبہ کردستان سے یومیہ ایک لاکھ بیرل تیل خریدنے کا معاہدہ کیا تھا۔

العربیہ ٹی وی کو اس معاہدے کی اہم دستاویزات ملی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ نوری المالکی نے کردوں کی سیاسی مدد کے حصول کی خاطر کردستان سے بھاری مقدار میں تیل خریدنے کا فیصلہ کیا تھا۔

العربیہ کو ملنے والی دستاویزات کردستان کی تیل پیدا کرنے والی ایک کمپنی کی جانب سے صوبہ کردستان کی وزارت پٹرولیم وقدرتی وسائل کو فراہم کی گئی تھیں جن میں بتایا گیا ہے کہ کردستان اور نوری المالکی کے درمیان ایک معاہدہ ہوا جس میں بغداد حکومت کردستان سے یومیہ ایک لاکھ بیرل تیل خریدے گی۔

یہ تیل پائپ لائنوں کے ذریعے بغداد تک پہنچایا جانا تھا۔ کمپنی کی دستاویزات کے جواب میں کردستان حکومت نے توثیق کی ہے کہ اسے نوری المالکی کی حکومت کی شرائط کے تحت معاہدہ قبول ہے۔ معاہدے کے تحت کردستان کےعوام کو نوری المالکی کی تیسری مرتبہ وزارت عظمیٰ کے لیے حمایت کرنا تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں