صہیونی جنگی جرائم کی عالمی تحقیقات، امریکا اور اسرائیل برہم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بین الاقوامی فوج داری عدالت’’آئی سی سی‘‘ میں فلسطینی اتھارٹی کی درخواست کی روشنی میں اسرائیل کے جنگی جرائم کی تحقیقات کے فیصلے پر امریکا اور اسرائیل نے سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان جیفری راتھکی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل کو فلسطینیوں کے خلاف جنگی جرائم کے الزام کے تحت عالمی عدالت انصاف میں گھسٹینا ’المناک‘ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تنہا اسرائیل پر جنگی جرائم کے ارتکاب کا الزام نہیں لگایا جا سکتا۔ فلسطینی جنگجوئوں کی جانب سے اسرائیل کے عام شہریوں پر ہزاروں راکٹ حملے کیے گئے جس کے نتیجے میں اسرائیل کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان اٹھانا پڑاہے۔عالمی عدالت انصاف کے فورم پر کسی ایک فریق کے خلاف جنگی جرائم کے الزامات کی تحقیقات کے بجائے فلسطینیوں کے راکٹ حملوں کی بھی تحقیقات کی جانی چاہیے۔

ادھر دوسری جانب اسرائیل نے عالمی عدالت انصاف میں صہیونی فوج کے ہاتھوں فلسطینیوں کے خلاف جنگی جرائم کی ابتدائی تحقیقات شروع کرنے کو ’’شرمناک‘‘ اقدام قرار دیا۔ جمعہ کے روز اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر سےجاری ایک بیان میں کہا گیا کہ ’’آئی سی سی ‘‘ کا اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کی تحقیقات کا فیصلہ قابل قبول نہیں ہے۔ یہ ایک شرمناک اقدام ہے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ جب فلسطینی اتھارٹی کسی آزاد ملک کی نمائندہ ہی نہیں تو اس کے کہنے پر اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کی تحقیقات کیسے شروع کی جاسکتی ہیں؟ ایسا خود عالمی عدالت انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے۔

نیتن یاھو کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کی تحقیقات اس لیے بھی بے معنی ہیں کیونکہ فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ اسلامی تحریک مزاحمت’حماس‘ بھی شریک اقتدار ہے اور یہ تنظیم اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کی مرتکب ہو چکی ہے۔ اس کا اپنا ایک آزاد عدالتی نظام ہے۔ عالمی قوانین کے تحت بھی اسے دہشت گرد قراردیا جا چکا ہے۔

اس سے قبل اسرائیلی وزیرخارجہ آوی گیڈور لائبرمین نے بھی عالمی عدالت انصاف کےفیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل جنگی جرائم سے متعلق تحقیقات میں’آئی سی سی‘ سے تعاون نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی عدالت میں اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کی تحقیقات تل ابیب کودہشت گردی کے خلاف اپنے دفاع سے منع کرنے کی کوشش ہے۔

یاد رہے کہ کل جمعہ کو عالمی عدالت انصاف نے فلسطینی اتھارٹی کی درخواست پر اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کی ابتدائی تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے۔ اگلے مرحلے میں سنہ 2014ء کے وسط میں غزہ کی پٹی پر مسلط کی گئی اسرائیلی جنگ میں انسانی حقوق کی پامالی کے حوالے سے جامع تحقیقات کی راہ ہموار ہو گی۔

یہ امرقابل ذکر رہے کہ گذشتہ برس جولائی اور اگست کے دوران غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ کے نتیجے میں 2200 فلسطینی شہید اورگیارہ ہزار سے زاید زخمی ہو گئے تھے جبکہ فلسطینی مزاحمت کاروں کے جوابی حملوں میں 70 اسرائیلی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں