.

یمن: صدر کا چیف آف سٹاف حوثیوں کے ہاتھوں اغوا

احمد عود بن مبارک پچھلے سال وزارت عظمی کے لیے نامزد کیے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مسلح افراد نے یمنی صدر عبدالربہ منصور الہادی کے چیف آف سٹاف کو ان کے ساتھیوں سمیت اغوا کر لیا ہے۔ نیشنل ڈائیلاگ سیکریٹیریٹ کے حکام کے مطابق صدر کے چیف آف سٹاف احمد عود بن مبارک اپنے ساتھیوں کے ساتھ ہفتے کے روز صنعاء کے جنوبی ضلع ہادا کے علاقے میں مسلح گروہ کی قائم کردہ ایک چیک پوائنٹ سے گذر رہے تھے کہ انہیں یرغمال بنا لیا گیا۔

صدر کے چیف آف سٹاف ملک میں صدر علی عبداللہ صالح کے استعفے کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال میں قومی مکالمے کے لیے قائم کی گئے ادارے کے سیکرٹری جنرل ہیں۔ انہیں پچھلے سال صدر کی طرف سے وزیر اعظم نامزد کیے جانے کی کوشش کو دارالحکومت میں اہم جگہوں پر قابض شیعہ بندوق برداروں نے مسترد کر دیا تھا۔

سرکاری حکام نے شبہ ظاہر کیا ہے چیف آف سٹاف کو شیعہ ملیشیا کے عسکریت پسندوں نے ہی اغواء کیا ہے تاہم ابھی کسی گروہ نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

یمن سابق صدر علی عبداللہ صالح کے اقتدار کے خاتمے کے بعد سے مسلسل بد امنی کا شکار ہے۔ حوثی شیعہ اور القاعدہ دونوں اقتدار کے ایوانوں پر قبضے کے خواہش مند ہیں۔ مبارک یمن کے جنوبی حصے سے تعلق کی بنیاد پر ان مکالمہ کاروں میں بھی شامل رہے ہیں جو جنوبی یمن کی آزادی کی بات کرتے ہیں۔

دوسری جانب حوثی شیعہ ہیں جنہوں نے اکیس ستمبر دوہزار تیرہ کو صنعاء پر قبضہ کیا تھا چیف آف سٹاف کے سخت مخالف ہیں ، انہوں نے ماہ اکتوبر میں احمد عودبن مبارک کو وزیر اعظم بنائے جانے کی مخالفت کی۔

حوثی عسکریت پسندوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہیں سابق صدر علی عبداللہ صالح کی حمایت حاصل ہے۔ علی عبداللہ صالح کی جماعت جنرل پیپلز کانگریس پارٹی نے بھی ان کے وزیر اعظم بننے کی مخالفت کی تھی۔