.

القاعدہ کا شامی فوج کا طیارہ مارگرانے کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں برسرپیکار القاعدہ کی شاخ النصرۃ محاذ نے ملک کے شمال مغربی علاقے میں اسدی فوج کا ایک مال بردار طیارہ مارگرانے کا دعویٰ کیا ہے۔

النصرۃ محاذ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر اتوار کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کارگو طیارے کو صوبہ ادلب میں فوج کے ابوالظہور ہوائی اڈے کے نزدیک مار گرایا گیا ہے۔آزاد ذرائع سے ان کے اس دعوے کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

لیکن شام کے سرکاری ٹیلی ویژن نے طیارے کے حادثے کی ایک مختلف وجہ بیان کی ہے اور ایک نشریے میں فوجی ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ مال بردار طیارہ ہفتے کی رات خراب موسم اور شدید دھند کی وجہ سے گر کر تباہ ہوا ہے۔اس ذریعے کے مطابق فوجی طیارہ ابوالظہور فوجی اڈے پر اترنے کی کوشش کے دوران حادثے کا شکار ہوا تھا اور اس کے عملے کے ارکان ہلاک ہوگئے ہیں۔

واضح رہے کہ شام میں مارچ 2011ء سے جاری خانہ جنگی کے دوران اب تک صدر بشارالاسد کی وفادار فضائیہ کے متعدد طیارے اور ہیلی کاپٹر حادثات یا جنگجوؤں کے حملوں میں تباہ ہوچکے ہیں۔گذشتہ ماہ شام کے شمال مشرقی شہر الرقہ کے نزدیک اردن کی فضائیہ کا ایک لڑاکا طیارہ گر کر تباہ ہوگیا تھا۔

سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامی عراق وشام (داعش) نے اس طیارے کو مارگرانے کا دعویٰ کیا تھا اور اس کے پائیلٹ کو گرفتار کر لیا تھا جو ابھی تک ان کے زیر حراست ہے۔شام میں امریکا اور اس کے اتحادی عرب ممالک داعش اور دوسرے جنگجو گروپوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کررہے ہیں۔اردن بھی اس فضائی مہم میں شریک ہے۔