.

ایرانی دوشیزہ کی فٹبال گول کیپر کو کھلے عام شادی کی پیشکش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی قدامت پسند معاشرتی روایات میں مردو زن کا کھلے عام میل جول معیوب سمجھا جاتا ہے مگر یہ سب کچھ اندرون ملک ہوتا ہے۔بیرون ملک ایرانی ان پابندیوں کو زیادہ خاطر میں نہیں لاتےبلکہ بعض اوقات مکمل طورپر مغربی طرز زندگی میں ڈھل جاتے ہیں۔

ایرانی نوجوان نسل کی روشن خیال کے مظاہر کے کئی واقعات ریکارڈ پرموجود ہیں۔ انہی میں ایک تازہ واقعہ حال ہی میں آسٹریلیا میں کھیلے گئے ایشیا فٹ بال کپ کے آخری میچوں کے دوران اس وقت دیکھا گیا جب سڈنی کے ایک اسٹیڈیم میں فٹبال میچ کے دوران تماشائیوں میں شامل ایک ایرانی دوشیزہ نے خود کواپنی ٹیم کے گول کیبرسےشادی کے لیے’پروپوز‘ کیا۔

ایرانی لڑکی گول کیپر سے اس حد تک متاثر دکھائی دی کہ اس نے باقاعدہ ایک بینرپر گول کیپرعلی رضا حقیقی سےشادی کی آفر کر دی اور وہ بینر اسٹیڈم میں لہرا لہرا کراپنی ’خواہش نا تمام‘ کا اظہار کرتی رہی۔

ایرانی دوشیزہ اور اس کے بینرکی تصاویر سوشل میڈیا پربڑے پیمانے پر مقبول ہوئی ہیں اور ان تصاویر پر بلاگرز نے خوب تبصرے بھی کیے ہیں۔ کچھ تبصروں میں ایرانی دوشیزہ کی اس ’جرات رندانہ‘ کو سراہا گیا ہے تاہم بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ ایران جیسے اسلام پسند معاشرے میں اس قماش کی حرکتیں مناسب نہیں ہیں۔ ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ کسی ایرانی دو شیزہ نے بھرے مجمع میں خود کو کسی کھلاڑی کے لیے پروپوز کیا ہو۔

اس نے اپنے ہاتھ میں پکڑے بینرز پرشادی کی پیشکش پرمبنی یہ جملہ لکھ رکھا تھا کہ’’علی رضا حقیقی کیا تم مجھ سے شادی کرو گے؟

خیال رہے کہ ایرانی حکومت کی جانب سے اپنے فٹ بالروں اور ٹیم کے تمام عملے کو سختی سے ہدایات کی جاتی ہیں کہ وہ بیرون ملک کھیلوں کےدوران خواتین کے ساتھ تصاویر بنوانے سے گریز کریں تاہم بعض اوقات کھلاڑی اس تنبیہ کو نظرانداز کرتے ہوئے خواتین شایقین کی خواہش پران کے ساتھ یادگاری فوٹو بنواتے رہتے ہیں۔ گذشتہ برس ایشیا فٹ بال کپ کے موقع پرایرانی فٹ بالر سردارآزمون نے کئی ایرانی اور دوسرے ممالک کی خواتین کے ساتھ تصاویر بنوائی تھیں جو بعد ازاں سوشل میڈیا پر بھی مشہور ہوئیں۔

ایرانی فٹ بال ٹیم کے گول کیپر کئی دوسری ایرانی خواتین نے بھی گذشتہ برس برازیل میں کھیل کے مقابلوں میں بہت پسند کیا تھا۔