.

شام میں اسدی فوج اور کردوں کے درمیان جھڑپیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شمال مشرقی شپر الحسکہ میں پہلی بار صدر بشارالاسد کی وفادار فوج اور کرد جنگجوئوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں جن میں کم سے کم چھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

شام میں انسانی حقوق کی صورتحال پر نظر رکھنے والے ادارے’’آبزرویٹری برائے انسانی حقوق‘‘ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اسدی فوج اور کرد جنگجوئوں کے درمیان جھڑپیں ہفتے کی شام شمال مشرقی شہر الحسکہ میں ہوئیں۔ جھڑپوں میں ایک خاتون اور چار سرکاری فوجیوں سمیت چھ افراد مارے گئے۔

آبزویٹری کے مطابق خاتون کی ہلاکت ایک مکان پر راکٹ گرنے سے ہوئی تاہم اسدی فوجی کرد جنگجوئوں کی براہ راست فائرنگ کے نتیجے میں مارے گئے۔ ذرائع کے مطابق الحسکہ شہر سرکاری فوج اور کرد باغیوں کے درمیان جھڑپوں کا مرکز ہے جہاں کرد ڈیموکریٹک الائنس اور شامی فوج کے درمیان خون ریز جھڑپیں ہوئی ہیں۔

یاد رہے کہ کرد ڈیموکریٹک الائنس ماضی میں کرد لیبر پارٹی ہی کا حصہ تھی جو تاریخی طور پر صدر بشارالاسد کی حامی سمجھی جاتی ہے تاہم شام میں صدر کے خلاف مسلح بغاوت کے بعد کرد پارٹی میں پھوٹ پڑ گئی تھی۔

الحسکہ شہر دفاعی اعتبار سے نہایت اہمیت کا حامل علاقہ ہے جس کی ایک جانب سرحد ترکی اور دوسری جانب عراق سے ملتی ہے۔ شہر میں اکثریت آباد اہل سنت مسلک کے کرد باشندوں پر مشتمل ہے۔

شامی فوج اور کرد جنگجوئوں کے درمیان تازہ جھڑپوں کا پس منظر چند روز قبل اسدی کی جانب سے 10 کرد جنگجوئوں کی گرفتاری بنی ہے۔ سرکاری فوج نے اشتعال پھیلانے کے الزام میں ایک درجن کے قریب کرد جنگجو گرفتار کر لیے تھے۔