.

عراقی حکومت کے وزراء اور سرکاری افسران مالی بدعنوانی میں ملوث

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں حکومت کی تبدیلی کے باوجود مالی بدعنوانی کا ناسور ختم نہیں ہو سکا ہے۔ سابق وزیراعظم نوری المالکی کی سبکدوشی کے بعد حیدر العبادی کی حکومت سے ملک کو کرپشن فری بنانے کی توقع کی جا رہی تھی تاہم میڈیا رپورٹس سے پتا چلا ہے کہ العبادی کی کابینہ کے چھ اہم وزراء 53 اہم سرکاری افسران قومی خزانے کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں۔

کرپشن میں ملوث وزراء میں ایھم السامرائی، سابق وزیر تجارت عبدالفلاح السوڈانی اور سابق وزیردفاع حازم الشعلان شام ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عراق کو کرپشن سے پاک کرنے کے لیے قائم کردہ کمیشن کی جانب سے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا گیا کہ کرپشن کاناسورنہ صرف بغداد حکومت میں تیزی سے پھیل رہا ہے بلکہ کرد اکثریتی صوبہ کردستان کی حکومت بھی بدعنوانی میں ملوث ہے۔

عراق کے محکمہ انسداد بدعنوانی کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ سنہ 2014ء کے دوران کرپشن کے 17 ہزار 613 بدعنوانی کیسز کی تحقیقات کی گئیں۔ مجموعی طورپر ایک سال کے دوران 4129 افراد کے کرپشن کے کیسز عدالتوں کو بھجوائے گئے جبکہ 1736 افراد کے خلاف کرپشن کے الزامات کے تحت قانونی کارروائی کی۔

محکمہ انسداد بدعنوانی کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ ایک سال کے دوران 03 کھرب30 ارب ریال کی کرپشن کی گئی۔

رپورٹس کے مطابق عراقی حکومت کی جن اہم شخصیات نے بدعوانی کا ارتکاب کیا ہے ان میں نائب صدر، نائب وزیراعظم، نو وزراء،53 افسران اور 328 دیگر اہلکار شامل ہیں۔