.

غرب اردن: کینیڈین وزیرخارجہ پر انڈوں کی بارش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

غرب ردن کے شہر رام اللہ میں مشتعل فلسطینی نوجوانوں نے دورے پر آئے ہوئے کینیڈا کے وزیر خارجہ جان بیئرڈ کے قافلے پر انڈوں کی بارش کردی ہے۔

اتوار کو یہ واقعہ اس وقت پیش آیا ہے جب جان بیئرڈ اپنے فلسطینی ہم منصب ریاض المالکی سے ملاقات کے بعد مقبوضہ بیت المقدس جانے کے لیے نکلے تھے۔کینیڈین وزیر خارجہ کے دورے کے خلاف فلسطینی صدر محمودعباس کی جماعت فتح سمیت متعدد تنظیموں اور نوجوانوں کی تحریکوں نے مظاہرے کی اپیل کررکھی تھی۔اس موقع پر فلسطینی نوجوانوں کی بڑی تعداد جمع تھی اور جونہی مسٹر جان بیئرڈ کی گاڑی نکلی تو انھوں نے اس پر انڈوں کی بارش کردی۔

کینیڈا صہیونی ریاست اسرائیل کے پشتی بان ممالک میں امریکا کے بعد دوسرے نمبر پر ہے اور اس نے فلسطینی ریاست کے اقوام متحدہ میں 2012ء میں درجہ بڑھانے کے لیے پیش کردہ قرارداد کی مخالفت کی تھی۔

گذشتہ سال جولائی اور اگست میں اسرائیل کی غزہ کی پٹی پر پچاس جارحیت کے دوران بھی کینیڈا نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ صہیونی ریاست کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے اور اس نے فلسطینی تنظیم حماس کو غزہ میں خونریزی کا ذمے دار قرار دیا تھا حالانکہ عالمی برادری نے اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کی تھی جس کے نتیجے میں بائیس سو سے زیادہ فلسطینی شہید ہوگئے تھے۔

جان بیئرڈ نے سنہ 2013ء میں ایک اور اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں ایک اسرائیلی عہدے دار سے ملاقات کی تھی۔واضح رہے کہ اسرائیل یا مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے دورے پر آنے والے غیرملکی عہدے دار یا سفارت کار مقبوضہ بیت المقدس میں اس طرح کی سرگرمی سے پرہیز کرتے ہیں تاکہ فلسطینی اس سے نالاں نہ ہوں کیونکہ وہ اس شہر کو اپنی مستقبل میں قائم ہونے والی ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں جبکہ اسرائیل نے 1967 ء کی جنگ میں اس مقدس شہر پر قبضہ کر لیا تھا اور بعد میں اس کو اپنی ریاست میں ضم کر لیا تھا لیکن عالمی برادری اس کے اس اقدام کو تسلیم نہیں کرتی ہے۔

ریاض المالکی کے ساتھ ملاقات میں بھی جان بیئرڈ نے کوئی مفاہمانہ موقف اختیار نہیں کیا ہے اور انھیں خبردار کیا ہے کہ فلسطینیوں کی جانب سے اپنی ریاست کو بین الاقوامی سطح پر یک طرفہ طور پر منوانے کے لیے کوششوں کے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

کینیڈین وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق مسٹر جان بئیرڈ نے کہا کہ''میں نے وزیر سے ایسے کسی بھی اقدام پر نظرثانی کے لیے کہا ہے جس کے نتیجے میں ریاست اسرائیل کے ساتھ مذاکرات پر اثرات مرتب ہوسکتے ہوں''۔

انھوں نے کہا کہ ''انھوں نے اپنے فلسطینی ہم منصب سے تعمیری بات چیت کی ہے اور انھوں نے ان معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا ہے جن پر طرفین مختلف نقطہ نظر رکھتے ہیں''۔

مسٹر بیئرڈ رام اللہ سے مقبوضہ بیت المقدس کے لیے روانہ ہوگئے تھے جہاں وہ اپنے صہیونی وزیرخارجہ ایویگڈور لائبرمین اور صدر ریوون ریولین سے ملاقات کرنے والے تھے۔

فلسطینیوں کے اعلیٰ مذاکرات کار صائب عریقات نے جان بیئرڈ سے رام اللہ میں ملاقات نہیں کی۔انھوں نے ایک بیان میں کینیڈا کی جانب سے اسرائیل کی غیرمتزلزل حمایت اور فلسطینیوں کی اپنی ریاست کو منوانے کے لیے کوششوں کی مخالفت پراپنے سخت غصے کا اظہار کیا ہے۔

انھوں نے کہا:''ہمیں افسوس ہے کہ کینیڈین حکومت تاریخ کے غلط سمت کھڑی ہے اور وہ اسرائیلی قبضے اور نسل پرستی کی پالیسیوں کی آنکھیں بند کرکے حمایت کررہی ہے۔کینیڈین وزیرخارجہ جان بیئرڈ نے بہ ذات خود فلسطینیوں کی استصواب رائے کے حق کے لیے کوششوں کی مخالفت کی ہے اور اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کے حقوق کو غصب کرنے کی حمایت کی ہے''۔

انھوں نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ ''کینیڈین حکومت کو اسرائیل کی چیرہ دستیوں کی حمایت پر فلسطینی عوام کے علاوہ عرب اور مسلم ممالک سے بھی معافی مانگنے چاہیے''۔