یرغمال یمنی عہدیدار کی رہائی کے لیے حوثیوں کو24 گھنٹے کا الٹی میٹم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن کے جنوبی اضلاع کے قبائلی عمایدین نے شدت پسند شیعہ گروپ حوثیوں کو یرغمال بنائے گئے یمنی ایوان صدر کے پرنسپل سیکرٹری ڈاکٹر احمد عوض بن مبارک کو چھوڑنے کے لیے 24 گھنٹے کی مہلت دی ہے۔ بغداد میں قائم امریکی سفارت خانے کے ذرائع کے مطابق حوثی شدت پسندوں نے گذشتہ روز ایوان کے ڈائریکٹر احمد عوض کویرغمال بنانے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا تھا۔ یمنی حکومت نے بن مبارک کے اغواء کو قومی مفاہمتی بات چیت کے خلاف سازش قرار دیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جنوبی یمن کے مختلف اضلاع کے قبائلی عمائدین، سیاسی اور عسکری رہ نمائوں اور سول سوسائٹی کے ارکان کے مشترکہ اجلاس میں حوثیوں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ احمد عوض بن مبارک کو فوری طور پر رہا کریں۔ انہوں نے حوثیوں کو چوبیس گھنٹے کی مہلت دیتے ہوئے کہا کہ اگربن مبارک کو چابیس گھنٹوں کے اندر رہا نہ کیا گیا تو حوثیوں کو اس کے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔

قبائلی عمایدین کے جرگے میں شبوۃ قبیلے کے رہ نمائوں نے دھمکی دی کہ اگر احمد بن مبارک کو رہا نہ کیا گیا تو وہ جنوبی یمن میں تیل اور گیس کے منصوبوں پر کام کرنے والی بین الاقوامی فرموں کو کام سے روک دیں گے۔ حضر موت اور مآرب کے قبائل نے شبو ضلع کے قبائل کے اس فیصلے کی حمایت کی اور کہا کہ احمد بن مبارک کی رہائی نہ ہونے کی صورت میں بھی متبادل اقدامات کریں گے۔

یمن کے ضلع مآرب کے ایک قبائلی سردار الشیخ القردعی نے کہا کہ حوثیوں کی پرتشدد کارروائیوں کے جواب میں ہم خاموش ہاتھ باندھ کرنہیں بیٹھ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا القاعدہ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں لیکن ہم حوثیوں کے خلاف اس وقت تک جنگ کریں گے جب تک وہ احمد بن مبارک کو رہا نہیں کر دیتے ہیں۔

ادھر صنعاء میں حوثیوں کی پرتشدد کارروائیوں کے خلاف مقامی شہریوں نے احتجاجی مظاہرے کئے ہیں۔ صنعاء میں حوثیوں کے خلاف نکالے گئے ایک جلوس کے شرکاء نے مطالبہ کیا کہ حوثی بندوق بردار فوری طورپر شہروں سے نکل جائیں اور یرغمال بنائے گئے سرکاری افسران کو رہا کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں