.

اسرائیلی صدر کی محمود عباس کو امن مذاکرات کی بحالی کی دعوت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی صدر روفین ریفلین نے فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس پر ایک بار پھرامن بات چیت دوبارہ شروع کرنے پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یک طرفہ کسی بھی اقدام سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ بالآخر فریقین کو مذاکرات کی میز پرآنا ہی ہو گا۔ اس لیے محمود عباس وقت ضائع کیے بغیر بامقصد بات چیت کا عمل دوبارہ شروع کریں۔

خیال رہے کہ اسرائیلی صدر کی جانب سے فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس سے مذاکرات کی بحالی کا مطالبہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب فلسطینی اسرائیل کو اس کے جنگی جرائم کی بنا پر بین الاقوامی عدالت انصاف کے کٹہرے میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

خبررساں ایجنسی کے مطابق امریکی سینٹر جان مکین کی قیادت میں کانگریس کے ایک وفد نے اسرائیلی صدر سے ملاقات کی۔ ملاقات میں صدر ریفیلین نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے اسرائیل کے خلاف یک طرفہ قانونی چارہ جوئی سے انتہا پسندوں کو فائدہ ہو گا۔ اس لیے بہتر ہے کہ صدر محمود عباس انتہا پسندوں کو مضبوط کرنے کے بجائے بامقصد بات چیت کا دوبارہ آغاز کریں۔

انہوں نے کہا کہ میں صدر عباس سے پرزور مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ ہیگ میں قائم بین الاقوامی فوج داری عدالت میں جانے کے بجائے بیت المقدس آئیں اور اسرائیلی حکومت قوم سے براہ راست بات چیت کریں۔

یاد رہے کہ گذشتہ دسمبر میں فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے سلامتی کونسل میں خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کی قرار داد مسترد ہونے کے بعد بین الاقوامی فوج داری عدالت سے رجوع کیا تھا۔ دو روز قبل ’آئی سی سی‘ نے مقبوضہ عرب علاقوں میں اسرائیل کے مبینہ جنگی جرائم کی تحقیقات کے لیے ابتدائی جائزہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ بین الاقوامی عدالت گذشتہ برس جولائی اور اگست کے دوران غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج کے حملوں کے دوران نہتے فلسطینیوں کے قتل عام کی تحقیقات پر غور کر رہی ہے۔

یہاں یہ امر واضح رہے کہ اسرائیل کے موجودہ صدر روفین ریفیلین فلسطینی ریاست کے قیام کے سخت مخالف رہے ہیں۔ جولائی 2014ء میں منصب صدارت سنھبالنے کے بعد انہوں نے فلسطین کے حوالے سے کوئی قابل ذکر بیان جاری نہیں کیا۔ ان کی گفتگو کے زیادہ تر موضوعات اسرائیل کی اندرونی سیاست کے بارے میں رہے ہیں۔