.

جاپانی وزیراعظم تین روزہ دورے پر اسرائیل پہنچ گئے

محمود عباس سے بھی ملاقات ہوگی، اسرائیل سے تحمل کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جاپانی وزیراعظم اپنے مشرق وسطی کے دورے کے سلسلے میں اردن کے راستے اسرائیل پہنچ گئے ہیں۔ وہ اسرائیلی صدر ،وزیر اعظم اور دیگر حکام سے ملاقاتوں کے علاوہ مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس سے بھی ملیں گے۔

ان کے دورے کا اہم ترین مقصد فریقین کو امن مذاکرات بحال کرنے کی طرف متوجہ کرنا اور اقتصادی تعاون سے متعلق معاہدات ممکن بنانا ہے۔ وہ اردن سے یہاں پہنچے ہیں۔

وزیر اعظم جاپان شینزو ایبے کے ساتھ سو رکنی وفد بھی ہے، اس اعلی سطح کے وفد میں سرکاری حکام کے علاوہ اہم کاروباری اداروں کے سربراہان بھی شامل ہیں۔

پچھلے نو سال کے دوران جاپان کے وزیر اعظم کا اسرائیل کا یہ پہلا دورہ ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو جنہوں نے پچھلے سال ماہ مئی میں جاپان کا چھ روزہ دورہ کیا تھا نہ صرف جاپان اور دوسرے ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش میں ہے بلکہ اسرائیل کے لیے یورپی دنیا میں اقتصادی اور سیاسی مشکلات بڑھنے کے بعد ایشیائی ملکوں میں پناہ تلاش کرنے کی کوشش میں ہیں۔

واضح رہے بعض یورپی ممالک میں اسرائیلی مصنوعات کے مقاطعے کی مہم کے ساتھ ساتھ اسرائیل کی مشرقی یروشلم میں یہودی بستیوں کی تعمیر کے خلاف سخت موقف لیے ہوئے ہیں۔ نیز متعدد یورپی مماالک میں فلسطینی ریاست کے حق میں قرارداد بھی آ چکی ہے۔

دوسری جانب جاپان کے وزیر اعظم کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ وہ اسرائیلی قیادت سے فلسطینیوں کے بارے میں تحمل کی پالیسی کا مطالبہ کرنے والے ہیں تاکہ امن مذاکرات کی راہ کھوٹی نہ ہو سکے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق اسرائیل کے لیے جاپانی وزیر اعظم کا ایسے موقع پر اسرائیل آنا اہم ہے جب فلسطینی انٹرنیشنل کریمنل کورٹ میں اسرائیلی جنگی جرائم اور مظالم کا معاملہ اٹھانے کی تیاری میں ہیں، جبکہ جاپان آئی سی سی کا رکن ہے۔ اسرائیل کی کوشش ہے کہ آئی سی سی میں جاپان کی موجودگی کو اپنے حق میں استعمال کر سکے۔

اس سے پہلے امریکا اور اسرائیل فلسطینیوں کے آئی سی سی سے رجوع پر اپنی سخت ناپسندیدگی کا اظہار کر چکے ہیں۔ امریکی ترجمان نے کہا تھا کہ ایسے اقدامات سے اچھے اثرات سامنے نہیں آئیں گے۔ اسرائیل اس حوالے سے کینیڈا کی حمایت حاصل کرنے کے لیے بات چیت کر چکا ہے۔

جاپان کے وزیر اعظم نے اسرائیل پہنچنے سے قبل مصر کے دورے کے دوران عراق اور شام کی جنگ کی وجہ سے تباہ حالی کے باعث ان ملکوں کے جنگ متاثرین کے لیے انسانی بنیادوں پر پانچ اعشاریہ دو ارب ڈالر کی امداد دینے کا وعدہ کیا ہے۔