.

اسرائیلی حملے میں ایرانی جنرل کی ہلاکت کی تصدیق

شامی علاقے پر حملے میں حزب اللہ کے دو مرکزی کمانڈروں سمیت 6 ارکان کی ہلاکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے سرحدی علاقے میں اتوار کو اسرائیلی فوج کے فضائی حملے میں لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے چھے کمانڈروں کے ساتھ پاسداران انقلاب ایران کے ایک جنرل بھی ہلاک ہوگئے ہیں اور ایران نے شام میں اپنے اس جنرل کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے۔

ایرانی پاسداران انقلاب نے سوموار کو اپنی ویب سائٹ پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ''جنرل محمد علی اللہ دادی اور اسلامی مزاحمت (حزب اللہ) کے متعدد جنگجو صہیونی رجیم کے ہیلی کاپٹروں کے حملے میں مارے گئے ہیں''۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ''اللہ دادی شام میں ایک مشیر کی حیثیت سے مقیم تھے اور شامی حکومت کو تکفیری سلفی (سنی انتہا پسند) دہشت گردوں کے خلاف لڑائی میں مدد دے رہے تھے۔

قبل ازیں حزب اللہ کے ایک قریبی ذریعے نے اے ایف پی کو بتایا کہ اسرائیلی فضائی حملے میں تنظیم کے چھے کمانڈروں علاوہ چھے ایرانی فوجی بھی مارے گئے تھے۔لیکن پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں ان باقی فوجیوں کی ہلاکت کا کوئی ذکر نہیں کیا ہے۔

ایران کی دانا نیوز ویب سائٹ کی اطلاع کے مطابق ''شام کی حدود میں گولان کی چوٹیوں پر اسرائیلی ہیلی کاپٹر کے فضائی حملے میں پاسداران انقلاب کی ساراللہ بریگیڈ کے سابق کمانڈر جنرل محمد علی اللہ دادی شہید ہوگئے ہیں۔وہ اسی کار میں تھے جس میں حزب اللہ کے کمانڈر سوار تھے''۔

اسرائیلی ہیلی کاپٹر نے شام کے صوبہ القنیطرہ میں گولان کی چوٹیوں پر دو میزائل داغے تھے جس کے نتیجے میں حزب اللہ کے چھے کمانڈر موقع پر مارے گئے تھے۔العربیہ کے نمائندے کی اطلاع کے مطابق ان میں شیعہ ملیشیا کے مقتول کمانڈر عماد مغنیہ کے بیٹے جہاد مغنیہ بھی شامل تھے۔عماد مغنیہ خود بھی 2008ء میں دمشق میں اسرائیلی حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔

اس اسرائیلی حملے کا حزب اللہ نے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا ہے اور لبنان میں اس جنگجو تنظیم کی جانب سے اسرائیلی حملے کے ردعمل کی توقع کی جارہی ہے۔تنظیم کے سربراہ شیخ حسن نصراللہ نے گذشتہ ہفتے ایک تقریر میں کہا تھا کہ انھیں اسرائیل کی جانب سے کسی بھی حملے کا جواب دینے کا حق حاصل ہے۔تاہم بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ حزب اللہ شام اور عراق میں اپنی سرگرمیوں کی وجہ سے کوئی نیا محاذ کھولنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔

حزب اللہ کے المنار نیوز چینل نے گذشتہ روز ''حزب اللہ کے مجاہدین کے ایک گروپ کی صوبہ القنیطرہ کے گاؤں مزرعۃ الامل میں تحقیقی مشن کے دوران شہادت کی تصدیق کی تھی''۔مقتولین میں حزب اللہ کے کمانڈر محمد عیسیٰ بھی شامل تھے۔وہ لبنانی ملیشیا کی شام اور عراق میں کارروائیوں کے ذمے دار تھے۔اے ایف پی نے اسرائیل کے ایک سکیورٹی ذریعے کے حوالے سے کہا تھا کہ یہ جنگجو صہیونی ریاست پر حملے کی تیاری کررہے تھے۔

واضح رہے کہ ایران اور حزب اللہ شامی صدر بشارالاسد کے حامی ہیں اور ان کے جنگجو شامی فوج کے شانہ بشانہ باغیوں کے خلاف لڑرہے ہیں۔ایران نے اسد حکومت کی وفادار فوج کی باغی جنگجوؤں کے خلاف لڑائی میں مدد دینے اور مشاورت کے لیے اپنے دسیوں اعلیٰ فوجی عہدے دار شام میں بھیج رکھے ہیں لیکن وہ علانیہ ان کی خانہ جنگی کا شکار ملک میں موجودگی کو تسلیم نہیں کرتا ہے۔