.

السیسی: انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا اعتراف

مصر کے استحکام کی خاطر پولیس کی کارروائیوں کی مدافعت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے پہلی مرتبہ اعتراف کیا ہے کہ ان کے پیش رو منتخب صدر عبدالفتاح السیسی کی برطرفی کے بعد پولیس نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ارتکاب کیا تھا لیکن ان کا کہنا ہے کہ مصر کو درپیش استثنائی سکیورٹی خدشات کے پیش نظر یہ متوقع تھیں۔

انھوں نے یہ بات قاہرہ میں منگل کو پولیس کے 25 جنوری کو سالانہ قومی دن کے سلسلے میں پولیس افسروں اور وزراء کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ''کوئی بھی انسانی حقوق کے خلاف نہیں ہے،لیکن آج مصر کو ایک غیر معمولی صورت حال کا سامنا ہے''۔

انھوں نے سوال کیا:''کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی خلاف ورزیاں نہیں ہوں گی؟بلکہ خلاف ورزیاں ہوں گی لیکن کیا ہم ان کی منظوری دیتے ہیں؟''اس کا جواب انھوں نے خود ہی ''نہیں'' میں دیا ہے۔

یادرہے کہ 25 جنوری2011ء کو پولیس کے قومی دن کے موقع پر ہی سابق مطلق العنان صدر حسنی مبارک کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا آغاز ہوا تھا اور عوام کی اٹھارہ روزہ احتجاجی تحریک کے بعد ان کے تیس سالہ اقتدار کا خاتمہ ہوگیا تھا۔

عبدالفتاح السیسی کے صدر منتخب ہونے کے بعد سے پولیس ایک مرتبہ پھر اپنے وہی جوہر دکھا رہی ہے جو مبارک دور میں اس کا خاصہ تھے مگر صدر السیسی اس سے صرف نظر کرتے ہوئے متعدد مرتبہ یہ کَہ چکے ہیں کہ ملک میں استحکام کو یقینی بنانا اور سیاسی افراتفری پر قابو پانا ان کی ترجیح ہے۔

انھوں نے تقریب میں سکیورٹی کارروائیوں کے دوران ہلاک ہونے والے پولیس افسروں کے خاندانوں کو اعزازات دینے کے بعد کہا کہ ''مجھے کسی بھی اور شخص سے زیادہ انسانی حقوق کے بارے میں تشویش لاحق ہے لیکن آئیے ان لاکھوں خاندانوں کو دیکھتے ہیں جو ایسے علاقوں میں رہ رہے ہیں جن کو ترقی دینے کی ضرورت ہے۔ان کے حقوق کے بارے میں کیا خیال کیا ہے؟''

مصری صدر نے اسرائیل اور غزہ کی پٹی کے ساتھ واقع علاقے جزیرہ نما سیناء میں مشتبہ جنگجوؤں کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کا دفاع کیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اس علاقے میں گذشتہ ایک سال سے زیادہ عرصے کے دوران 208 جنگجو مارے جاچکے ہیں اور 955 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے مگر ان میں سے نصف سے زیادہ کو رہا کیا جا چکا ہے۔

انھوں نے کہا:''ان اعداد وشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم اس بات کو یقینی بنانے کی کوششش کررہے ہیں کہ بے گناہ لوگ نہ مارے جائیں''۔ان کا کہنا تھا کہ سیناء میں صورت حال کو معمول پر آنے میں ابھی وقت لگے گا۔

واضح رہے کہ جزیرہ نما سیناء میں 3 جولائی 2013ء کو عبدالفتاح السیسی کے ہاتھوں ملک کے جمہوری طور پر پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد سے اسلامی جنگجو سکیورٹی فورسز پر حملے کررہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ وہ یہ حملے سرکاری فورسز کے ڈاکٹر مرسی کے حامیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے ردعمل میں کررہے ہیں۔مصری حکام کے مطابق سیناء اور ملک کے دوسرے علاقوں میں جنگجو اب تک بیسیوں پولیس اہلکاروں اور فوجیوں کو بم حملوں یا فائرنگ کے واقعات میں ہلاک کرچکے ہیں۔

عبدالفتاح السیسی نے 3 جولائی کو ڈاکٹر محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔ تب وہ مسلح افواج کے سربراہ تھے۔ اس فوجی اقدام کے خلاف احتجاج کرنے والے اخوان المسلمون کے کارکنان اور دیگر جمہوریت پسندوں کے خلاف سکیورٹی فورسز نے سخت کریک ڈاؤن کیا تھا جس کے دوران ایک ہزار چار سو سے زیادہ افراد ہلاک اور دو ہزار سے زیادہ زخمی ہو گئے تھے۔

مصری فورسز نے اخوان المسلمون اور دوسری جماعتوں کے ہزاروں کارکنان کو گرفتار کر کے پابند سلاسل کر دیا ہے اور اخوان کے مرکزی قائدین سمیت ان گرفتار افراد کو مختلف الزامات میں تھوک کے حساب سے موت اور قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔ اس پر انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور مصر کے اتحادی امریکا نے بھی سخت احتجاج کیا تھا۔ اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ مصر میں جس طرح لوگوں کو پھانسی کی سزائیں سنائی جا رہی ہے، اس کی ماضی قریب کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی ہے۔