ایرانی امداد کی کمی، حزب اللہ کو مالیاتی بحران کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کو اس کے دیرینہ حلیف ایران کی جانب سے ماضی میں بھرپور مالی مدد فراہم کی جاتی رہی ہے تاہم ایران پرعالمی اقتصادی پابندیوں کے نتیجے میں تہران کی حزب اللہ کے لیے مالی امداد میں کمی کے بعد اب تنظیم بدترین مالیاتی بحران کا سامنا کر رہی ہے۔ العربیہ ٹی وی کے مطابق ایران کی جانب سے حزب اللہ کی مالی امداد 50 فی صد کم ہو چکی ہے۔

رپورٹ کے مطابق پچھلے چند ماہ کے دوران عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں غیرمعمولی کمی نے بھی ایرانی معیشت کو بڑے پیمانے پر متاثر کیا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں کمی اور عالمی اقتصادی پابندیوں کے بعد اب تہران کے لیے شام اور حزب اللہ جیسے گروپوں کی مالی امداد جاری رکھنا مزید مشکل ہو رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سنہ 2011ء کے بعد سے ایران کی تیل کی برآمدات میں 60 فی صد کمی آ چکی ہے جس کے نتیجے میں ایرانی بجٹ کا خسارہ نو ارب ڈالر تک جا پہنچا ہے۔ ایرانی بجٹ میں اس غیرمعمولی کمی کے بعد حزب اللہ کی مالی امداد میں بھی 50 فی صد کٹوتی کرنا پڑی ہے۔

خیال رہے کہ ایران کی حزب اللہ کے لیے امداد میں کمی پہلی مرتبہ نہیں دیکھی جا رہی بلکہ ماضی میں بھی تہران کی حزب اللہ کے لیے امداد میں اتارو چڑھائو آتا رہاہے۔ سنہ 2008ء میں تیل کی قیمتیں گرنے سے ایرانی کرنسی ڈالر کے مقابلے میں گر گئی تھی جس کے نتیجے میں حزب اللہ کی امداد بھی متاثر ہوئی تھی۔

عالمی ابلاغی اداروں کے مطابق ماضی کی نسبت حزب اللہ اس وقت بدترین اندورنی اور بیرونی مسائل کا شکارہے۔ جہاں ایک طرف تنظیم کی صفوں میں اسرائیل جاسوں کے بھرتی ہونے کی خبریں حزب اللہ کے لیے پریشانی کا باعث ہیں وہیں شام میں صدر بشارالاسد کے مخالفین کے ہاتھوں سیکڑوں کمانڈروں کی ہلاکت سے جماعت کی افرادی قوت کو بھی دھچکا لگا ہے۔

بیرون ملک حزب اللہ کو امریکا اور اسرائیل کی مہمات سے بھی سابقہ پڑ رہا ہے۔ امریکا اور اس کے اتحادی لاطینی امریکا، پوری اور افریقی ممالک میں حزب اللہ کے مالی معاونت کاروں کو محدود کرنے کی کوششیں کررہے ہیں جس کے نتیجے میں تنظیم کو بڑے پیمانے پر مالی کمی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں