.

داعش اور کینیڈا کی سپیشل فورسز کے درمیان جھڑپ

جھڑپ میں کینیڈین دستے کا کوئی نقصان نہیں ہوا: بریگیڈئیر جنرل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کینیڈا کے خصوصی فوجی دستوں اور داعش کے درمیان عراق میں جھڑپ کی اطلاع ملی ہے۔ عراق میں کینیڈی سپیشل فورسز سے وابستہ قریباً ساٹھ جبکہ مجموعی طور پر تقریباً چھ سو کینیڈین افسر اور اہلکار موجود ہیں۔

یہ اہلکار اس عالمی اتحادی دستوں کا حصہ ہیں جو امریکی قیادت میں پچھلے سال ماہ ستمبر سے عراق میں داعش کے خلاف فضائی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ داعش کے عسکریت پسندوں کے ساتھ ہونے والی اس جھڑپ کی سرکاری طور پر بھی تصدیق کر دی گئی ہے۔

عراق میں سپیشل فورسز کے کینیڈین سربراہ بریگیڈئیر جنرل مائیکل رولیو نے اس جھڑپ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ '' میرے فوجی دستوں نے عراق کے سیئٰر حکام اور قائدین کے ساتھ جنگ کے ایک خط اول سے کئی کلومیٹر پیچھے منصوبہ سازی کا سیشن مکمل کر لیا تو نقشوں میں سمجھی گئی پوزیشنوں کو موقع پر دیکھنے کے لیے آگے بڑھے۔ ''

بریگیڈئیر جنرل کے بقول '' اسی دوران اچانک مارٹر اور مشین گنوں سے شدد گولہ باری ہونے لگی۔'' انہوں نے مزید کہا اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے کینیڈین دستے نے سنائیپرز کا استعمال کیا اور خطرے کو رفع کیا۔ ، تاہم اس دوران کینیڈین سپیشل فورسز کا کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا ہے ۔''

کینیڈین فوجی کمانڈر نے البتہ یہ بھی بتایا ہے کہ یہ واقعہ قریبا ایک ہفتہ قبل پیش آیا تھ۔ا۔ واضح رہے عالمی اتحاد میں شامل غیرملکی فوجی دستے محض فضائی کارروائیوں اور عراقی فوجیوں کی تربیت و مشاورت کے لیے عراق میں موجود ہیں۔

اس سے پہلے امریکی فوجی دستے داعش کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے افراد کی رہائی کے لیے ایک ناکام آپریش کر چکے ہیں۔ کینیڈا کی سپیشل فورسز سے وابستہ تقریباً ساٹھ افسران عراقی فوجیوں کی تربیت کے لیے آئے ہیں۔