حوثیوں اور صدرہادی کے درمیان بن مبارک کی رہائی پراتفاق

جھڑپوں میں مزید نو ہلاک، وزیراعظم ہاؤس کا گھیراؤ جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

یمن کی وزیراطلاعات ونشریات نادیہ السقاف نے کہا ہے کہ حوثی شدت پسندوں نے صدرعبد ربہ منصورھادی کے ہاں یرغمال بنائے گئے پرنسپل سیکرٹری احمد عوض بن مبارک کی رہائی کا فیصلہ کرتے ہوئے حکومت کی بعض دوسری شرائط بھی تسلیم کر لی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر نے حوثیوں کی جانب سے نیشنل باڈی میں توسیع اور آئین میں حوثیوں کی منشاء کے مطابق ترامیم کا مطالبہ تسلیم کر لیا ہے۔

دوسری جانب یمنی حکومت کے ترجمان راجح بادی نے’’العربیہ‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور حوثیوں کے درمیان جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کی تاہم انہوں نے کہا کہ بن مبارک کی رہائی کے معاہدے کی خبریں غیر مصدقہ ہیں۔

دوسری جانب ٹیکنوکریٹس پر مشتمل عبوری حکومت نے تمام سیاسی قوتوں کی صدر منصورھادی کے ساتھ فوری ملاقات کا مطالبہ کیا ہے۔ حکومت کی جانب سے جاری بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پارلیمنٹ کے ارکان اور ملک میں سیاسی بحران کو ختم کرنے کے لیے قائم کردہ قومی کمیٹٰی کے نمائندگان بھی ملک کو تباہی سے بچانے اور تشدد کے خاتمے کے لیے صدر سے مل کر متفقہ لائحہ عمل مرتب کریں۔

درایں اثناء یمن میں پولیس اور حوثی شدت پسندوں کے درمیان پرتشدد جھڑپیں مسلسل جاری ہیں۔ یمنی وزیرصحت ڈاکٹر ناصر باعوم نے بتایا کہ سوموار کے روز پولیس اور حوثیوں میں جھڑپوں میں 09 افراد ہلاک اور 67 زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حوثیوں نے تحریر اسکوائر کے قریب وزیراعظم خالد محفوظ بحاح کے دفترکا گھیرائو بدستور جاری رکھا ہوا ہے۔

وزیرصحت کا کہنا تھا پولیس کے ساتھ جھڑپوں سات حوثی شدت پسند اوردو عام شہری مارے گئے۔

یمن میں حالیہ ہفتوں کے دوران سیاسی کشیدگی اور ملک میں جاری پرتشدد واقعات کے بعد عرب ممالک نےبھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یمن میں قیام امن کے لیے تیار کردہ خلیجی ممالک کے ’’امن روڈمیپ‘‘ کے نگراں دس ملکوں نے صنعاء میں کشیدگی کے فوری خاتمے کے لیے فریقین کے درمیان جنگ بندی پر زور دیا ہے۔

خلیج تعاون کونسل کی جانب سے جاری ایک بیان میں یمن کے تمام سیاسی اور عسکری گروپوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ بندوق کے ذریعے مسائل کے حل کے بجائے بات چیت کا راستہ اختیار کریں اورشراکت اقتدار کے قومی فارمولے کوعملی شکل دینے کے لیے مل کرکام کریں۔

خلیجی ممالک نے صدر عبد ربہ اور وزیراعظم خالد بحاح کی بھرپور حمایت جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔ بیان میں ایوان صدر کے پرنسپل سیکرٹری احمد عوض بن مبارک کی فوری اور محفوظ رہائی کا بھی مطالبہ کیا۔

درایں اثناء یمن کے سرکاری نیوز ٹیلی ویژن چینل ‘‘الیمن ٹی وی ‘‘ کے ڈائریکٹر نیوز توفیق الشرعبی نے حوثیوں کی مداخلت کے بعد احتجاجا اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’فیس بک‘ کے اپنے صفحے پر پوسٹ ایک بیان میں الشرعبی کا کہنا تھا کہ سرکاری ٹی وی پر اب قومی نوعیت کی خبریں نہیں بلکہ ایک گروپ کی من پسند خبریں نشر کی جا رہی ہیں۔ ایسے حالات میں میں نے عہدہ چھوڑنا ہی بہتر محسوس کیا ہے۔ میرے استعفے کے پس پردہ کوئی سیاسی محرک نہیں ہے۔ میں ان تمام لوگوں کاشکر گذار ہوں جنہوں نے مجھے یہ عہدہ سنبھالنے اور مستعفی ہونے پر مبارک باد پیش کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں