.

عربوں کی دو بدّووں کی موت پر اسرائیل بھر میں عام ہڑتال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل میں آباد سترہ لاکھ سے زیادہ عرب آبادی کے رہ نماؤں کی اپیل پر حال ہی میں دو بدّووں کی ہلاکت پر احتجاج کے طور پر آج منگل کو ملک گیر ہڑتال کی جارہی ہے۔یہ دونوں بدّو صہیونی پولیس کے ساتھ جھڑپوں کے دوران جان کی بازی ہار گئے تھے۔

قبل ازیں اسرائیلی عرب گروپوں پر مشتمل تنظیم کے چئیرمین اور سابق رکن پارلیمان طالب الثناء نے کہا تھا کہ عام ہڑتال کے موقع پر شمال میں واقع وادی جلیل سے جنوب میں واقع نیگیف صحرا کے علاقے تک اسکول اور کاروباری مراکز بند رہیں گے۔

انھوں نے اسرائیلی آرمی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''آج کی عام ہڑتال سے یہ سخت پیغام جائے گا کہ تمام عرب کمیونٹی ریاست اسرائیل کے دو عرب شہریوں کی ہلاکت کی شدید مذمت کرتی ہے۔ان کا واحد جرم صرف یہ تھا کہ وہ عرب تھے''۔

واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے نیگیف کے علاقے میں واقع بدّو آبادی کے قصبے راحت میں پولیس نے ایک چھاپہ مار کارروائی کے دوران فائرنگ کردی تھی جس کے نتیجے میں ایک شہری سامی الجعار مارا گیا تھا۔پولیس نے اس واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہے اور وہ اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کررہی ہے کہ آیا گولی پولیس افسروں نے چلائی تھی یا قصبے کے لوگوں کی جانب سے فائر کیا گیا تھا۔

سامی الجعار کی نماز جنازہ گذشتہ اتوار کو ادا کی گئی تھی۔اس دوران عرب مظاہرین اور اسرائیلی پولیس کے درمیان جھڑپ ہوئی تھی اور پولیس نے سوگوار مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے پھینکے تھے۔اس دوران سینتالیس سالہ عرب سامی الزیادنہ دل کا دورہ پڑنے سے خالق حقیقی سے جاملا تھا۔

زیادنہ کی سوموار کو تدفین کی گئی تھی اور ان کی نماز جنازہ کے بعد مشتعل مظاہرین نے راحت کے پولیس اسٹیشن کی جانب پتھراؤکیا تھا۔پولیس کا کہنا ہے کہ تھانے پر پتھراؤ کے الزام میں پانچ مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔راحت کے مکین گذشتہ اتوار سے اسرائیلی فورسز کی چیرہ دستیوں کے خلاف ہڑتال پر ہیں۔