.

لیبیا: جنرل خفترکی فوج میں دوبارہ خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی حکومت نے اسلامی عسکریت پسندوں سے نبرد آزما میجر جنرل ریٹائرڈ خلیفہ خفتر سمیت 108 سابق فوجی افسران کی فوج میں دوبارہ خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جنرل خفتراور دیگرعہدیداروں کی فوج میں دوبارہ شمولیت سے حکومت کے حامی اتحاد کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی، نیز لیبیا کے اسلامی شدت پسندوں سے نمٹنا نسبتا اور آسان ہو جائے گا۔

برطانوی خبررساں ایجنسی’رائیٹرز‘ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اسے لیبیا کی حکومت کے اس بیان کی ایک نقل ملی جس میں جنرل خفتر اور ان کے حامی ایک سو آٹھ سابق فوجی افسران کی فوج میں دوبارہ خدمات کے حصول کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان فوجی افسران کو حسب سابق اعلیٰ عہدوں پر تعینات کیا جائے گا۔

ادھرجنرل خفتر فوج کی فضائیہ کے سربراہ صقرالجروشی اور رُکن قانون ساز کونسل ادریس عبداللہ نے سابق فوجی افسران کی دوبارہ خدمات کے حصول کی تصدیق کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ کئی ہفتے قبل کر لیا گیا تھا تاہم اس کا اعلان اب کیا گیا ہے۔

درایں اثناء میجر جنرل ریائرڈ خلیفہ خفتر کا کہنا ہے کہ وہ ملک کو دہشت گردوں اور انصار الشریعہ جیسے انتہا پسند گروپوں سے پاک کرنے کے مشن کو جاری رکھیں گے۔ یاد رہے کہ انصار الشریعہ لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں 2012ء میں امریکی قونصل خانے پر حملوں سمیت ملک میں دہشت گردی کے کئی دوسرے واقعات میں ملوث بتائی جا رہی ہے۔

گذشتہ برس کے اوائل میں میجر جنرل خلیفہ خفترنے طرابلس میں مذہبی گروپوں پر مشتمل حکومت کے خلاف اعلان جنگ کیا تھا۔ اپنے ایک ویڈیو بیان میں انہوں نے اسلامی شدت پسندوں سے آخر تک لڑنے کا اعلان کیا تھا جسے طرابلس نے بغاوت سے تعبیر کیا تھا۔ جنرل خفتر کو مغربی لیبیا کے الزنتان عسکریت پسند گروپ کی حمایت بھی حاصل رہی ہے اور اسی گروپ نے گذشتہ برس مئی میں طرابلس میں پارلیمنٹ پر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

دوسری جانب لیبیا میں شدت پسند جماعت فجر لیبیا نے جنرل خلیفہ خفتردوبارہ فوج میں واپسی کے فیصلے کی مذمت کی ہے۔ فجر کا کہنا ہے کہ جنرل خفتر سابق صدر معمرالقذافی کے حامی ہیں۔ ان کی فوج میں واپسی قذافی اقتدار کی بحالی کی کوشش تصور کی جائے گی۔