.

یورپی عدالت کا حماس پر پابندیاں اٹھانے کا فیصلہ چیلنج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی یونین نے انسانی حقوق کی ایک عدالت کی جانب سے اسلامی تحریک مزاحمت’’حماس‘‘ پر پابندیاں اٹھانے اور جماعت کو دہشت گرد گروپوں کی فہرست سے نکالے جانے سے متعلق فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یورپی کونسل کی خاتون ترجمان سوزان کیفر نے سوموار کو برسلز میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یونین حماس کو دہشت گرد گروپوں سے نکالنے کے بارے میں عدالت کے فیصلے کو دوبارہ چیلنج کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا برسلز میں یونین کے ممبر ممالک کے اجلاس میں حماس سے متعلق عدالتی فیصلہ ایجنڈے میں شامل نہیں تھا تاہم یونین کے انسداد دہشت گردی سے متعلق وزراء خارجہ اجلاس میں اس پر جلد بات چیت کی جائے گی۔

خیال رہے کہ 17 دسمبر2014ء کو یورپی یونین کی ایک آئینی عدالت کی جانب سے حماس پرعاید پابندیاں کالعدم قرار دیتے ہوئے پابندیوں کو انتظامی نوعیت کا فیصلہ قرار دیا تھا۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ یورپی یونین کی جانب سے حماس کے خلاف سنہ 2001ء میں پابندیوں کا جو فیصلہ کیا تھا اسے کوئی آئینی اور قانونی بنیاد مہیا نہیں کی گئی تھی اور نہ ہی حماس کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت پیش کیے گئے تھے۔ یہ فیصلہ محض انٹرنیٹ اور صحافتی رپورٹوں کی بنیاد پر کیا گیا تھا۔

یورپی یونین کی جانب سے حماس پر پابندی اٹھائے جانے کے خلاف دائراپیل پر فیصلہ آنے میں ایک سال کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ تب تک یورپی ممالک میں حماس کے فنڈز منجمد رہیں گے۔

یورپی ہائی کمیشن کی لندن اور پیرس کی برانچوں کی جانب سے بھی عدالتی فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ یورپی یونین اب بھی حماس کو دہشت گرد گروپ ہی قرار دیتی ہے۔ یونین جلد ہی عدالتی فیصلے کےخلاف اپیل دائر کرے گی۔

حماس نے یورپی یونین کی جانب سے عدالتی فیصلے کو چیلنج کیے جانے کی مذمت کرتے ہوئے اسے’غیراخلاقی اقدام‘ اور اسرائیل نوازی قرار دیا ہے۔