.

سعودی عرب کے ساتھ بامقصد بات چیت کے لیے تیار ہیں: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ علی شمحانی نے کہا ہے کہ ان کا ملک سعودی عرب کے ساتھ شفاف اور بامقصد بات چیت کے لیے تیارہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران ریاض کے ساتھ باہمی دلچسپی کے تمام اہم اموراورتنازعات کے مذاکرات کے ذریعے حل پر یقین رکھتا ہے۔

ایرانی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق سعودی عرب میں متعین ایرانی سفیر حسین صادقی سے ملاقات کے دوران علی شمحانی نے کہا کہ ان کے ملک کی قیادت کو سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر بنانے کے لیے موثر اقدامات کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ تہران کی خارجہ پالیسی میں سعودی عرب کے ساتھ دوستانہ مراسم کا قیام شامل ہے۔

علی شمحانی نے عالم اسلام میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر ہونے والی لڑائیوں کی مذمت کی اور کہا کہ فرقہ واریت کے ناسور نے مسلم دنیا کو نہ صرف قیمتی جانوں سے محروم کیا بلکہ معاشی میدان میں بھی نقصانات سے دوچار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی تمام ممالک کے مشترکہ مسائل ہیں۔ داعش اور القاعدہ جیسے گروپوں سے تمام مسلمان ممالک کو مل کر نمٹنا پڑے گا۔

اس موقع پر ایرانی سفیر حسین صدقی نے بھی تہران۔ ریاض کے مابین تعاون کو وسعت دینے کے لیے دونوں ملکوں کو باہمی اعتماد سازی کے اقدامات کی ضرورت ہے۔ ایران سعودی عرب سمیت خطے کے تمام مسلمان ممالک کے ساتھ یکساں دوستانہ اور برادرانہ تعلقات کے قیام کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے مابین کشیدگی محض غلط فہمی کا نتیجہ ہے جسے دور کرنے کے لیے دوطرفہ قیادت کو ایک دوسرے کے قریب آنے کی ضرورت ہے۔

خیال رہے کہ ایرانی قومی سلامتی کے سربراہ علی شمحانی کو ایران۔ سعودی عرب تعلقات کا ماسٹر مائنڈ سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے سابق صدر محمد حاتمی کے دورحکومت میں وزیردفاع کی حیثیت سے سعودی عرب کا دورہ کیا اور دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو معمول پرلانے کے لیے قابل ذکر کوششیں کی تھیں۔ ان کے دورے کے بعد ایران اور سعودی عرب میں دفاعی میدان میں تعاون کے بھی مختلف معاہدے ہوئے تھے۔