.

پاسداران انقلاب کا اسرائیل سے انتقام لینے کا اعلان

شام میں حزب اللہ جنگجوئوں پر حملے کے جواب میں دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کی وادی گولان میں دو روز قبل لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ اور ایران کے بریگیڈیئر جنرل کی مبینہ اسرائیلی حملے میں ہلاکت کے جواب میں حزب اللہ اور ایران دونوں نے اسرائیل کو بھرپور جواب دینے کی دھمکی دی ہے۔

ایران کی پاسداران انقلاب کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ شام میں حزب اللہ کارکنوں اور ایرانی بریگیڈیئر جنرل کی ہلاکت کی اسرائیل کو بھاری قیمت چکانا ہو گی۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی’’فارس‘‘ کے مطابق پاسداران انقلاب کے کمانڈر ان چیف جنرل محمد علی جعفری نے اسرائیلی حملے کے ردعمل میں اپنے ایک بیان میں کہا کہ صہیونی ریاست اپنی جارحیت کے بعد اب’’تباہ کن آندھی‘‘ کے انتظار میں رہے۔ ان کا اشارہ شام میں اپنے فوجی اور حزب اللہ جنگجوئوں کی ہلاکت کے بعد ایران کے ممکنہ ردعمل کی جانب تھا۔

جنرل جعفری نے کہا کہ فتنہ اور فساد کی جڑ اور شر کے جرثومے اسرائیل کو انجام سے دوچار کرنا ہمارا اولین مقصد ہے۔ اسرائیل کو اپنے کیے کی بھاری قیمت چکانا ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ شام میں ہمارے جنرل کی ہلاکت کے بعد وہاں پر جاری جہاد سے دور رہنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا ہے۔ اسرائیل کے حملے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ شام میں جاری جنگ اسرائیل اور اس کے حامیوں کی ہے، ہمیں اس جنگ میں صہیونیوں کے حامیوں کو شکست دینا ہو گی۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ پاسداران انقلاب ماضی میں لبنان، فلسطین اور دوسرے ممالک کے محاذوں پر صہیونی ریاست کے خلاف نبرد آزما رہی ہے اور آئندہ بھی پاسدارن انقلاب اپنی ذمہ داریاں ادا کرتا رہے گا۔

خیال رہے کہ ایران کے کسی اعلیٰ عسکری عہدیدار کی جانب سے پہلی بار فلسطین اور لبنان میں پاسداران انقلاب کی موجودگی کا اعتراف کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاسداران انقلاب نہ صرف سیاسی اور تکنیکی میدان میں مدد فراہم کرتی رہی ہے بلکہ مزاحمتی میدان میں بھی شامل رہی ہے۔

قبل ازیں ایرانی وزیردفاع میجر جنرل حسین دھقان نے بھی شام میں حزب اللہ کے ایک قافلے پر ایرانی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے دہشت گردانہ کارروائی قرار دیا تھا۔ انہوں نے بھی دھمکی دی تھی کہ اسرائیل کو اپنے جرم کی سزا بھگتنا ہو گی۔