.

کانگریس داعش کیخلاف طاقت کے استعمال کی نئی منظوری دے: اوباما

ایران پر پابندیاں نہیں لگنے دوں گا''سٹیٹ آف دی یونین'' خطاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر براک اوباما نے ''سٹیٹ آف دی یونین'' کے اپنے سالانہ خطاب میں کانگریس کے دونوں ایوانوں سے کہا ہے کہ داعش کے خلاف طاقت کے استعمال کی از سر نو منظوری دی جائے، جبکہ ایران کے خلاف اقتصادی پابندیوں میں جلدی نہ کی جائے تاکہ متنازعہ ایرانی جوہری پروگرام کے حوالے سے جاری سفارتی کوششیں آگے بڑھ سکے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ امریکی صدر نے کانگریس کے دونوں ایوانوں کے ارکان سے براہ راست مخاطب ہوتے ہوئے انہیں انتباہ کیا ہے کہ ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا بل صدر کی میز پر آیا تو وہ اسے ویٹو کر دیں گے۔

اس سے پہلے انہوں نے کانگریس کو یہ انتباہ بالواسطہ انداز میں ڈیموکریٹ ارکان کے ذریعے اور بعد ازاں وائٹ ہاوس میں برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے ساتھ ایک نیوز کانفرنس میں کیا تھا۔

اوباما نے اپنے اس سالانہ خطاب میں دنیا بھر میں دہشت گردوں کے خلاف اپنی دیرینہ حکمت عملی جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا، نیز گوانتانامو بے کی بدنام زمانہ امریکی جیل کو ختم کرنے کے لیے بھی اپنے صدارتی دور کے پہلے اعلان پر قائم رہنے کا اشارہ دیا۔

انہوں نے پاکستان میں آرمی پبلک سکول اور پیرس میں حالیہ دہشت گردانہ کارروائیوں کا نشانہ بننے والوں کے ساتھ اظہار یکجہتی بھی کیا۔

صدر اوباما کے خطاب کے دوران کانگریس کے ارکان نے پیلے رنگ کی پنسلیں لہرا کر پیرس کے مقتولین کے لیے حمایت کا اظہار کیا۔ اس واقعے میں سترہ افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں دو سے زائد حملہ آور بھی شامل تھے۔

اوباما نے پرعزم انداز میں کہا '' ہم دہشت گردوں کا شکار کرنے کی مہم جاری رکھیں گے اور ان کے نیٹ ورکس کا خاتمہ کر دیں گے۔''

انہوں نے امریکی حکام پر زور دیا کہ وہ یکطرفہ طور پر اقدامات کا حق محفوظ رکھیں جیسا کہ ہم نے اب تک ہم نے اپنے دور صدارت میں پوری بے رحمی سے ان دہشت گردوں کو نشانہ بنایا ہے جو ہمارے اتحادیوں یا براہ راست ہمارے لیے خطرہ تھے۔''

اوباما نے کہا '' امریکا پوری دنیا میں دہشت گردی کا نشانہ بننے والوں کے ساتھ کھڑا ہے۔'' انہوں نے اس موقع پر یہود مخالف جذبات کی لہر پر اظہار افسوس کیا اور کہا یہ لہر دنیا کے مخصوص حصوں میں ہے ،ہم اس کے باوجود انسانی وقار، کے احترام کا وعدہ کرتے ہیں۔

ان کے ساتھ جوہری تنازعہ طے کرنے کے لیے جاری سفارتی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے امریکی صدر نے کہا '' متعدد سینیٹرز اس امر کے لیے زور لگا رہے ہیں کہ ایران کے خلاف نئی اقتصادی پابندیوں کی کانگریس منظوری دے لیکن میں باور کرانا چاہتا ہوں کہ ایسی پابندیاں یہ ظاہر کریں گی کہ سفارتی کوششیں ناکام ہو گئی ہیں۔''

ایران اور دنیا کی چھ بڑی طاقتوں کے درمیان اس معاملے میں یکم جولائی سے پہلے ایک حتمی معاہدہ کرنے کی کوشش میں ہیں۔ اس سلسلے میں ایک ابتدائی معاہدہ چوبیس نومبر دو ہزار تیرہ کو طے پا گیا تھا۔

اوباما نے ارکان کانگریس سے کہا '' ہمارے پاس ایک موقع ہے کہ ایرانی جوہری پروگرام کے بارے میں جامع معاہدے کے لیے بات چیت کریں، ایسا معاہدہ امریکا اور اس کے اتحادیوں بشمول اسرائیل کو محفوظ بنائے گا، نیز ہم مشرق وسطی میں ایک نئے تصادم سے بچ جائیں گے۔''

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس امر کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ ایرانی جوہری تنازعہ طے کرنے کے لیے مذاکرات کامیاب ہو جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا ہمیں ایرانی جوہری تنازعے کے حوالے سے تمام ممکنہ آپشنز کو سامنے رکھنا چاہیے، تاکہ ایران کو جوہری صلاحیت حاصل کرنے سے روکا جا سکے۔''

امریکی صدر نے مزید کہا '' اقتصادی پابندیوں کی بات بلاجواز ہے، اس لیے اگر کوئی بل منظور کیا گیا تو اسے روکنے کے لیے میں ویٹو کر دوں گا۔'' انہوں نے کہا امریکی عوام توقع رکھتے ہیں کہ ہم صرف اسی صورت میں جنگ کی طرف جائیں گے جب کوئی اور راستہ باقی نہیں رہے گا۔''

صدر اوباما نے اب کی بار'' سٹیٹ آف دی یونین '' سے اپنے خطاب میں بھی گوانتا نامو بے میں قائم امریکی جیل کا اسی انداز میں ذکر کیا جس انداز میں انہوں نے بطور صدر اپنے پہلے خطاب میں کیا تھا۔ انہوں نے کہا '' میں نے اس جیل کو بند کرنے کا وعدہ کیا تھا ، اب میں سمجھتا ہوں کہ یہ وقت ہے کہ یہ کام کر لیا جائے۔''

انہوں نے کہا ہم امریکی انصاف کے ساتھ گہری کمٹمنٹ رکھتے ہیں لہذا یہ معقول بات نہیں ہے کہ ہم ایک قیدی پر سالانہ تین ملین ڈالر کی خطیر رقم خرچ کرتے رہیں، دنیا کے لوگ اس اس جیل کی مذمت کرتے ہیں جبکہ اسے نئی بھرتیوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔''

صدر اوباما نے کہا '' میں اس سلسلے میں اپنے ارادے کو متزلزل نہیں ہونے دوں گا، جیسا کہ ہم نے گوانتا نامو بے میں قیدیوں کی تعداد کم کر دی ہے۔'' واضح رہے اب اس امریکی جیل میں ایک سو بائیس قیدی رہ گئے ہیں۔ ان میں متعدد کا قیدیوں کا تعلق یمن سے ہے۔ جنہیں امریکی حکام واپس بھیجنے پر تیار نہیں ہیں۔