ایران کے سابق نائب صدر کو پانچ سال قید اور جرمانے کی سزا

رضا رحیمی کو کرپشن کے الزامات کا سامنا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران کی سپریم کورٹ نے سابق نائب صدر محمد رضا رحیمی کو بدعنوانی کے الزامات کے تحت پانچ سال کے لیے جیل بھجوانے،ایرانی کرنسی میں دو ارب ، آٹھ کڑو50 لاکھ تومان کی رقم قومی خزانے میں جمع کرانے اور دو ارب تومان جرمانہ ادا کرنے کی سزا سنائی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سزا پانے والے سابق نائب صدر محمد رضا رحیمی سابق صدر محمود احمدی نزاد کے نائب رہ چکے ہیں۔ گذشتہ برس صدرحسن روحانی کے حکم پران کے پیشرو محمود احمدی نژاد کے دور میں قومی خزانے کی لوٹ مار میں ملوث دسیوں اعلیٰ عہدیداروں کو حراست میں لیا گیا تھا۔ ان میں محمد رضا رحیمی بھی شامل تھے۔ ان پر بھی قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے الزام کے تحت بند کمرے میں مقدمہ چلایا گیا۔ سابق نائب صدرمسٹر رحیمی غبن کیس میں دو دیگر عہدیداروں کے ساتھ ماخوذ ہیں۔ انہوں نے ایران کی ایک سرکاری انشورینس کمپنی اورہارڈ کرنسی مارکیٹ میں خورد برد کی تھی۔ حال ہی میں ایران کی ایک عدالت نے انہیں ضمانت پر رہا کرنے کا بھی اعلان کیا تھا تاہم رہائی سے قبل انہیں پانچ سال قید کا حکم دیا جا چکا ہے۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق غبن کیس میں ملوث ایک عہدیدار نے بیمہ کپمنی کے ذریعے ایک ارب پانچ سو ملین تومان کی رقم نائب صدر محمدرضا رحیمی کے اکائونٹ میں منتقل کرنے کا اعتراف کیا تھا۔ امریکی ڈالر میں یہ رقم سات لاکھ ڈالرسے زیادہ بنتی ہے۔

ایرانی ارکان پارلیمان نے سابق نایب صدر 65سالہ رضا رحیمی پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ کرپشن مافیا کے سرغنہ ہیں۔ انہوں نے جعلی اقتصادی منصوبوں کے نام قومی خزانے سے کروڑوں ڈالرکی رقم لے کر خرد برد کی ہے۔

گذشتہ برس دسمبر میں ایرانی انٹیلی جنس کے وزیر محمود علوی نے 20 اہم سابق عہدیداروں کو کرپشن کے الزامات کے تحت حراست میں لینے کی تصدیق کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ گرفتار کیے جانے والوں میں سابق صدرمحمود احمدی نژاد کی کابینہ میں شامل رہنے والے وزیر بھی شامل ہیں۔

انٹیلی جنس وزیر کا کہنا تھا کہ بدعنوانی میں گرفتار سابق عہدیداروں نے سنہ 2010ء اور 2013ء کے دوران قومی خزانے کو نقصان پہنچایا تھا۔

خیال رہے کہ گذشتہ برس حکومت نے کرپشن میں ملوث سرکاری افسران کے ایک بڑے نیٹ ورک کا انکشاف کرتے ہوئے کئی سابق اور حاضر سروس عہدیداروں کو حراست میں لینے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس نیٹ ورک میں مرشد اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے مقربین اور کئی رشتہ دار بھی ملوث پائے گئے ہیں۔

پچھلے سال ایران کی عدالت کے حکم پر ایرانی کروڑ پتی تاجر مہا فرید امیر خسروی کو دو ارب 60 کروڑ ڈالر کے مالیاتی فراڈ کے جرم میں پھانسی دے دی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں