لبنان: مسلح افراد کا حملہ، متعدد فوجی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام کی سرحد کے نزدیک واقع لبنان کے علاقے میں مسلح افراد کے ساتھ جھڑپوں میں متعدد لبنانی فوجی ہلاک یا زخمی ہوگئے ہیں۔

فوجی ذرائع کے مطابق:''لڑائی میں متعدد لبنانی فوجیوں نے شہادت پائی ہے،وہ زخمی بھی ہوئے ہیں اور ہم نے متعدد حملہ آوروں کو ہلاک اور زخمی کیا ہے مگر ان ذرائع نے فوجیوں اور حملہ آوروں کی ہلاکتوں کی حتمی تعداد نہیں بتائی ہے اور نہ یہ بتایا ہے کہ کتنے افراد زخمی ہوئے ہیں''۔

ایک سکیورٹی ذریعے کا کہنا ہے کہ جمعہ کی صبح شام کی وادی قلمون کی جانب سے آنے والے قریباً دو سو مسلح افراد نے راس بعلبک کے پہاڑی علاقے میں لبنانی فوج کی ایک چوکی پر حملہ کیا تھا جس کے بعد ان کے درمیان لڑائی شروع ہوگئی تھی۔

لبنانی فوج نے ایک بیان میں راس بعلبک میں ''دہشت گردوں'' کے حملے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ لڑائی ابھی جاری ہے اور فوجی یونٹ مزاحمت کاروں کے ٹھکانوں پر بمباری کررہے ہیں''۔

واضح رہے کہ گذشتہ سال اگست میں بھی شام میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے خلاف برسرپیکار مختلف جہادی گروپوں سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں نے لبنان کے مشرقی علاقے میں واقع قصبے عرسال اور اس کے نواح میں پولیس اور فوج کی چوکیوں پر حملہ کردیا تھا۔انھوں نے القاعدہ کی شامی شاخ النصرۃ محاذ سے وابستہ ایک مشتبہ شخص کی گرفتاری کے بعد وادی بقاع میں دھاوا بولا تھا۔

لبنان کے مقامی علماء کی ثالثی کے نتیجے میں فوج اور جنگجوؤں کے درمیان جنگ بندی کا سمجھوتا طے پایا تھا جس کے بعد جنگجوؤں نے سات فوجیوں کو رہا کردیا تھا لیکن وہ عرسال سے شامی علاقے کی جانب جاتے ہوئے بعض لبنانی فوجیوں کو یرغمال بنا کر ساتھ لے گئے تھے۔ لبنانی آرمی نے تب اپنے بائیس فوجیوں کے لاپتا ہونے کی تصدیق کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں