یمن: حوثیوں کے خلاف صنعاء میں احتجاجی مظاہرے

چار افراد زخمی، صدر سے استعفا واپس لینے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن کے دارالحکومت صنعاء میں حوثی قابضین کے خلاف شہریوں کے احتجاج کے دوران کم از کم چار افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ مظاہرین کی طرف سے حوثیوں کے خلاف اور صدر ھادی کے حق میں زبردست نعرہ بازی کی گئی۔

ہزاروں کی تعداد میں ہفتے روز شہریوں نے صنعاء کی سڑکوں پر مسلح حوثی قابضین کے خلاف سخت نعرہ بازی کی۔ خبر رساں اداروں کے مطابق ماہ ستمبر سے صنعاء میں حوثیوں کے قبضے کے بعد سے اب تک پہلا بڑا احتجاج ہے۔ مظاہرین حوثی حکمرانی مردہ باد کے نعرے بھی لگا رہے تھے۔

اس احتجاج کی اپیل تحریک استرداد نے کی تھی۔ تحریک استرداد کا قیام حال ہی میں مسلح گروپوں کے خلاف عمل میں لایا گیا ہے۔ یمن گذشتہ کئی برسوں سے مسلح گروپوں کی وجہ سے بد امنی کا شکار ہے۔

احتجاج کو روکنے کے لیے درجنوں حوثیوں نے رکاوٹیں کھڑ ی کیں۔ اس موقع پر دھکم پیل کے مناظر بھی دیکھنے میں آئے۔ واضح رہے حوثییوں نے تین چار روز قبل صدارتی محل پر بھی قبضہ کر لیا تھا، جس کے بعد صدر عبدالربہ منصور ھادی اور وزیر اعظم نے استعفا دے دیا ہے۔ تاہم پارلیمان نے ابھی یہ استعفے منظور نہیں کیے ہیں۔ آج ہفتے کے روز ان مظاہرین نے صدر سے استعفا واپس لینے کا بھی مطالبہ کیا۔

یہ مظاہرین اس مطالبے کے لیے وزیراعظم کی رہائش گاہ کی طرف مارچ کرنا چاہتے تھے۔ وزیر اعظم خالد اپنی رہائش گاہ کے حوثیوں کی طرف محاصرے کے بعد بدھ کے روز سے نامعلوم مقام پر منتقل ہوگئے ہیں۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ صدر ہادی ریاستی رٹ کا سختی سے نفاذ کریں، تاہم بعد ازاں ان کا راستہ تبدیل کر دیا گیا۔ احتجاج کے منظمین کا کہنا ہے کہ یمن کے بعض دوسرے شہروں میں بھی مظاہرے کیے گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں