.

مصر: انقلاب کی سالگرہ پر15 افراد ہلاک

سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تشدد کے واقعات کو روکنے میں ناکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں 25 جنوری 2011ء کو برپا ہونے والے انقلاب کی سالگرہ کے موقع پر تشدد کے مختلف واقعات میں پندرہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ سکیورٹی فورسز کی بھاری تشدد کے واقعات کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔

العربیہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق مصر کے دوسرے بڑے شہر اسکندریہ میں اتوار کو مظاہرے میں شریک ایک شخص گولی لگنے سے زخمی ہوگیا اور بعد میں وہ زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ گیا ہے۔ قاہرہ کے مشہور میدان التحریر میں ہفتے کے روز اسی طرح ایک خاتون گولی لگنے سے ہلاک ہو گئی تھی۔

قاہرہ کے علاقے ہیلیو پولیس میں ایک بم دھماکے میں دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق پولیس اہلکار علاقے میں ایک اسپورٹس کلب کے باہر حفاظت پر مامور پر تھے اور اس دوران انھیں بم حملے میں نشانہ بنایا گیا ہے۔

مصری حکومت نے سابق مطلق العنان صدر حسنی مبارک کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک کی چوتھی سالگرہ کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے ہیں اور قاہرہ میں سکیورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔انھوں نے رعمسیس اسکوائر میں مظاہرہ کرنے والے افراد کو اشک آور گیس کے گولے پھینک کر منتشر کردیا ہے۔

مڈل ایسٹ نیوز ایجنسی (مینا) کی اطلاع کے مطابق میدان التحریر کے ارد گرد بائیس بکتربند گاڑیاں کھڑی کی گئی ہیں اور اس کی جانب جانے والے راستوں کو بند کردیا گیا ہے۔

قاہرہ میں رابعہ اسکوائر پر بھی سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔اسی جگہ جولائی 2013ء میں اخوان المسلمون کے سیکڑوں حامیوں نے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے خلاف دھرنا دیا تھا اور اس کو منتشر کرنے کے لیے مصری فورسز کی اگست میں خونریز کارروائی کے نتیجے میں چودہ سو سے دوہزار کے درمیان افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

سابق فوجی سربراہ اوراب منتخب صدر عبدالفتاح السیسی نے ہفتے کے روز ایک نشری تقریر میں چار سال قبل تبدیلی کے لیے مصری عوام کی خواہش کی تعریف کی ہے مگر ساتھ ہی انھوں نے کہا ہے کہ انقلاب کے تمام مقاصد کے حصول کے لیے صبر وتحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

عبدالفتاح السیسی نے آرمی چیف کی حیثیت سے منتخب صدر ڈاکٹر محمدمرسی کو برطرف کرنے کے بعد ملک میں جمہوریت کی مکمل بحالی کے لیے ایک نقشہ راہ کا اعلان کیا تھا۔اس کے تحت انھوں نے پہلے ریفرینڈم کے ذریعے ملک کا نیا آئین منظور کروایا تھا اور پھر صدارتی انتخابات منعقد کروائے اور خود ملک کے صدر بن گئے تھے۔

ان کے مخالفین نے ان پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات عاید کیے ہیں۔ان پر سب سے بڑا یہ الزام عاید کیا ہے کہ وہ بھی حسنی مبارک کی طرح ایک مطلق العنان صدر بن جا رہے ہیں اور شہری آزادیوں پر قدغنیں لگا رہے ہیں۔انھوں نے اپنے دور اقتدار میں اب تک ایسے قوانین کا نفاذ کیا ہے جس سے آزادی اظہار کو محدود کردیا گیا ہے اور پُرامن مظاہروں کے انعقاد پر پابندی لگا دی گئی ہے۔انقلابی تحریک کے کارکنان کا کہنا ہے کہ انھوں سابق صدرحسنی مبارک کے خلاف جدوجہد کے دوان جو کچھ حاصل کیا تھا،اب وہ اس سے آہستہ آہستہ محروم ہوتے جارہے ہیں۔

الیسسی کی حکومت میں عدالتوں نے مبارک دور کے عہدے داروں کو ان کے خلاف عاید مختلف النوع مقدمات سے بری کردیا ہے یا انھیں بری کیا جارہا ہے۔مصر کی ایک عدالت نے گذشتہ جمعرات کو سابق صدر کے دونوں بیٹوں علاء اور جمال مبارک کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔اس سے قبل گذشتہ سال نومبر میں ان کے والد گرامی کو بھی مظاہرین کی ہلاکتوں کے مقدمے میں بری کیا جاچکا ہے۔ان کی بریت کے خلاف قاہرہ میں پُرتشدد احتجاجی مظاہرے کیے گئے تھے۔