گاہک کا بچا کھانا کھانے پر ہوٹل مالک کا بچے پر تشدد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شامی صدر بشار الاسد کے مظالم اور دہشت گردوں کے خوف سے ملک سے فرار ہونے والے لاکھوں شامی باشندوں کو کہیں بھی جائے امان نہیں مل سکی ہے۔ اندرون ملک اور پڑوسی ملکوں میں دربدر فلسطینی پناہ گزین بچے اور خواتین جہاں جاتے ہیں وہیں انہیں ناانصافیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

حال ہی میں سوشل میڈیا کے ذریعے ایک شامی پناہ گزین بچے کی دل سوز داستان سامنے آئی جسے ترکی کے ایک ہوٹل کے مالک نے محض اس لیے تشدد کا نشانہ بنا ڈالا کہ وہ گاہکوں کا چھوڑا ہوا فاضل کھانا کھا رہا تھا۔

یہ واقعہ ترکی کے تاریخی شہر استنبول میں سیرینفلر کے مقام پرپیش آیا جب ایک پناہ گزین بچہ امریکی فاسٹ فوڈ چین ’’برگر کنگ‘‘میں گاہکوں سے بچا کھانا کھانے لگا تو ہوٹل کے انچارج نے اسے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔

تشدد کا نشانہ بننے والے بچے نے اپنا نام خلیل بتایا اور کہا کہ وہ دو سال قبل اپنے خاندان کے ہمراہ شام کے شہر حلب سے ترکی ھجرت کر آیا تھا۔ میں بہت بھوکا تھا اس لیے ہوٹل میں گاہکوں کا چھوڑا کھانا کھا کر پیٹ کی آگ بجھانے کی کوشش میں ہوٹل کے ڈائریکٹر نے مجھے ایک مکا رسید کیا۔

بچے کا کہنا ہے کہ وہ استنبول کی سڑکوں پر کھانا مانگتا رہا مگر کسی کو میرے حال پر رحم نہیں آیا۔

دوسری جانب برگر کنگ ہوٹل نیٹ ورک کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ بچے پر تشدد کرنے والے ڈائریکٹر کو فارغ کر دیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ بچے پر تشدد ناپسندیدہ حرکت تھی جس پر ہوٹل کے عہدیدار کو برطرف کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ ترکی میں دو ملین سے زیادہ شامی پناہ گزین موجود ہیں جو ترک سرحد پر پناہ گزین کیمپوں میں نہایت بے بسی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں