.

حسنی مبارک کے دونوں بیٹے جیل سے رہا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے معزول صدر حسنی مبارک کے دونوں بیٹوں علاء اور جمال مبارک کو سوموار کی صبح جیل سے رہا کردیا گیا ہے۔

قاہرہ کی ایک اعلیٰ عدالت نے گذشتہ ہفتے علاء اور جمال مبارک کو کرپشن کے مقدمے میں سنائی گئی سزا کالعدم قرار دے کر ان کی رہائی کا حکم دیا تھا۔قاہرہ کی فوجداری عدالت نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ دونوں بھائی پہلے ہی مقدمے کی سماعت سے قبل زیادہ سے زیادہ اٹھارہ ماہ کا عرصہ جیل میں گزار چکے ہیں۔اس لیے انھیں ان کے خلاف کرپشن کے مقدمے کی دوبارہ سماعت کی صورت میں بھی زیرحراست نہیں رکھا جاسکتا ہے۔

عدالت کے اس حکم کے خلاف مصریوں نے سخت ردعمل کا اظہار کیا تھاجس کے پیش نظر ان کی رہائی مؤخر کردی گئی تھی حالانکہ مصر کے سرکاری میڈیا نے جمعہ کو ان کی جیل سے رہائی کی خبر بھی جاری کردی تھی لیکن جیل حکام نے آخری منٹ پر ان کی رہائی مؤخر کردی تھی تا کہ ان کے جیل سے چھوٹنے پر حکومت مخالفین احتجاجی مظاہرے نہ کرسکیں۔

اتوار کو مصر کے سابق مطلق العنان صدر حسنی مبارک کی حکومت کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک کے آغاز کی چوتھی سالگرہ تھی۔اس موقع پر احتجاجی مظاہروں کے دوران تشدد کے واقعات میں بیس سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

واضح رہے کہ مصر کی ایک اعلیٰ عدالت نے اسی ماہ حسنی مبارک اور ان کے دونوں بیٹوں کے خلاف کرپشن کے مقدمے کی سماعت کا دوبارہ حکم دیا تھا اور انھیں سنائی گئی قید کی سزا کالعدم قرار دے دی تھی۔اس عدالت نے علاء اور جمال مبارک کو کرپشن کے اس مقدمے میں سنائی گئی چار، چار سال قید کی سزا کا حکم بھی کالعدم قرار دے دیا تھا اور ان کے خلاف مقدمے کی دوبارہ سماعت کا حکم دیا تھا۔

قاہرہ کی ایک ماتحت عدالت نے معزول صدر کو گذشتہ سال مئی میں ایک کروڑ ساٹھ لاکھ ڈالرز سے زیادہ رقم خرد برد کرنے کے الزام میں تین سال قید کی سزا سنائی تھی۔سابق صدر پر الزام تھا کہ انھوں نے صدارتی محل کی تزئین وآرائش کے لیے مختص کی گئی رقم میں غبن کیا تھا اور اس کو ذاتی جائیداد میں اضافے پر خرچ کیا تھا۔ان کے دور حکومت میں کرپشن کی علامت سمجھے جانے والے ان کے دونوں بیٹوں پر بھی یہی رقم خرد برد کرنے کا الزام عاید کیا گیا تھا۔