شام سے اسرائیل کے مقبوضہ گولان پر راکٹ حملہ

اسرائیلی فوج کا شامی علاقے کی جانب جوابی حملہ،کوئی جانی نقصان نہیں ہوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام کے علاقے سے فائر کیے گئے دو راکٹ اسرائیل کے مقبوضہ گولان کی چوٹیوں پر گرے ہیں۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان راکٹوں کے بعد فوج نے سیاحتی مقام ماؤنٹ ہرمن کو خالی کرنے کے لیے کَہ دیا ہے۔فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ یہ راکٹ کس نے فائر کیے تھے۔

اسرائیل کے چینل ٹو ٹی وی کی اطلاع کے مطابق اس راکٹ حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے اور اسرائیلی فوج نے جوابی حملہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیلی فوج نے 18 جنوری کو گولان کی چوٹیوں کے نزدیک شام کے سرحدی صوبے القنطیرہ میں لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے ایک قافلے پر میزائل داغے تھے جن کے نتیجے میں پاسداران انقلاب ایران کے ایک میجر جنرل محمد اللہ دادی اور حزب اللہ کے دومرکزی کمانڈروں سمیت چھے جنگجو ہلاک ہوگئے تھے۔ان میں شیعہ ملیشیا کے مقتول کمانڈر عماد مغنیہ کا بیٹا بھی شامل تھا۔

حزب اللہ اور پاسداران انقلاب نے ان اموات کا بدلہ چکانے کا اعلان کیا تھا۔حزب اللہ کے نائب سربراہ شیخ نعیم قاسم نے حملے کے ردعمل میں کہا تھا کہ ''یہ صہیونیت کی فوجی مساوات قائم کرنے کی ایک نئی کوشش ہے۔انھوں نے اس طرح کے حملوں کے ذریعے وہ کچھ حاصل کرنے کی کوشش کی ہے جو وہ جنگ میں حاصل نہیں کرسکے تھے لیکن اسرائیل اب اتنا کمزور ہے کہ وہ نئے اقدامات یا نئے قواعد وضع کرنے کی صلاحیت کا حامل نہیں ہے''۔

اس حملے کے بعد سے اسرائیل کے شمالی علاقے اور گولان کی چوٹیوں پر فوج اور سول آبادی ہائی الرٹ ہے اور اسرائیل نے شام کی سرحد کے نزدیک راکٹوں کی نشاندہی اور انھیں ناکارہ بنانے والا آئرن ڈوم میزائل دفاعی نظام نصب کردیا ہے۔

حزب اللہ پر شام میں اپنے جنگجوؤں پر اسرائیلی فوج کے میزائل حملے کا جواب دینے کے لیے سخت دباؤ ہے اور وہ اس کے ردعمل میں اسرائیلی علاقوں پر راکٹ حملے کرسکتی ہے یا پھر دوسرے ممالک میں اسرائیلی مفادات کو نشانہ بنا سکتی ہے مگر اس کی جانب سے کسی بھی آپش پر عمل درآمد سے دونوں کے درمیان مکمل جنگ چھڑنے کا بھی خدشہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں