.

اسرائیلی طیاروں کی شام کے سرحدی شہر میں بمباری

جنگی طیاروں سے سرکاری فوج کے ٹھکانوں‌کو نشانہ بنایا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کے جنگی طیاروں نے شام کے سرحدی علاقے القنیطرہ میں سرکاری فوج کے ٹھکانوں ‌پر تین فضائی حملے کیے ہیں۔ دوسری جانب اسرائیل کے زیر قبضہ وادی گولان میں قائم یہودی کالونیوں میں خطرے کے الارم بجائے گئے ہیں۔

العربیہ ٹی وی کے نامہ نگار کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے القنیطرہ میں شامی فوج کے "بریگیڈ 90" کے تین مراکز کو نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں متعدد عمارتوں‌ اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے تاہم بمباری سے کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں مل سکی۔

کل منگل کو اسرائیلی فوج نے مقبوضہ وادی گولان میں راکٹ گرنے کا دعویٰ کیا تھا جس کے بعد اسرائیلی توپخانے سے شام کے اندر گولہ باری کی گئی تھی۔ اسرائیلی فوج کے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ شام سے مبینہ طور پر داغے گئے راکٹ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان پیٹر لیرنیر نے اپنے ایک تحریری بیان میں بتایا کہ شام کی جانب سے فائرنگ دانستہ طور پر کی گئی جس میں اسرائیلی علاقے کو نشانہ بنایا گیا۔ اس گولہ باری اور راکٹ حملوں کا شام میں جاری خانہ جنگی سے تعلق نہیں ہے۔

خیال رہے کہ چند روز پیشتر اسرائیلی طیاروں نے شام کے سرحدی شہر القنیطرہ میں ایک قافلے پر فضائی حملہ کرکے لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے پانچ جنگجو اور ایک ایرانی جنرل کو ہلاک کر دیا تھا۔ اس واقعے کے بعد اسرائیل کی شام اور لبنان کی سرحدوں پر کشیدگی میں اضافہ ہو گیا تھا۔