.

داعش کا اردن کو یرغمالیوں کے قتل سے قبل الٹی میٹم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شدت پسند تنظیم دولت اسلامی "داعش" نے اپنے ہاں یرغمال اردنی پائلٹ اور ایک جاپانی شہری کو ہلاک کرنے سے قبل اردن حکومت کو 24 گھنٹے کا آخری الٹی میٹم دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ عمان حکومت پھانسی کی سزا یافتہ ساجدہ الریشاوی کو رہا کر دے ورنہ یرغمال پائلٹ کو قتل کر دیا جائے گا۔

خبر رساں اداروں کے مطابق دولت اسلامی کی جانب سے ایک تازہ دھمکی آمیز ویڈیو بیان سامنے آیا ہے جس میں یرغمال جاپانی اور اردنی ہواباز کو بچانے کی آخری مہلت دی گئی ہے۔

انٹرنیٹ پر پوسٹ کی گئی ایک ریکارڈ شدہ فوٹیج میں یرغمال جاپانی صحافی کینگی گوٹو کو اردنی ہواباز معاذ الکساسہ کی تصویر اٹھائے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں مغوی جاپانی صحافی کا کہنا ہے کہ "اردنی حکومت کی طرف سے تاخیر یرغمال بنائے گئے پایلٹ کے قتل پر منتج ہو سکتی اور اس کی ذمہ داری عمان حکومت پر عاید ہو گی۔ اگر داعش کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو اردنی پائلٹ اور مجھے دونوں کو قتل کر دیا جائے گا۔ ہماری جانیں بچانے کے لیے اردن کے پاس صرف چوبیس گھنٹوں کا وقت ہے۔ گیند اب اردن کے کورٹ میں ہے"۔

یرغمالی جاپانی صحافی کا کہنا ہے کہ میں اپنے پچھلے پیغام میں بھی اپنی رہائی کی راہ میں اس رکاوٹ کا ذکر کر چکا ہوں۔ میری رہائی اس صورت میں ہو سکتی ہے بشرطیکہ اردن اپنے ہاں قید ساجدہ الریشاوی نامی خاتون کو رہا کر دے۔ ایسی صورت میں داعش یرغمال اردنی ہواباز معاذ الکساسہ کو بھی چھوڑنے پر تیار ہو گی۔

جاپانی ٹی وی "ان ایچ کے" کے مطابق منگل کو سامنے آنے والی اس فوٹیج کے بعد جاپانی حکام نے اس کی تصدیق کے لیے کوششیں شروع کر دی ہیں۔

ادھر اردن کی مسلح افواج کے ایک عہدیدار نے بھی داعش کی دھمکی آمیز ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ فوٹیج کی تصدیق کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکام طور پر داعش کی جانب سے جاری ویڈیو درست ہونے کی تصدیق کر رہے ہیں۔ اردنی عہدیدار کا کہنا ہے کہ داعش کے دھمکی آمیز بیان میں یرغمال اردنی پائلٹ کا ذکر نہیں ہے۔ تاہم اردن کو مخاطب کرنے سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ داعش یرغمال پائلٹ معاذ کو ہلاک کرنا چاہتی ہے۔

خیال رہے کہ اردن میں قید 44 سالہ ساجدہ مبارک عطروس الریشاوی عراق کی ایک خود کش بمبار خاتون ہے جس نے نو مبر 2005ء کو عمان میں تین ہوٹلوں میں دھماکوں میں حصہ لیا تھا تاہم وہ خود کو دھماکے سے اڑانے میں ناکام ہو گئی تھی اور اردنی پولیس نے اسے حراست میں لے لیا تھا۔ اس پر مقدمہ چلایا گیا اور عدالت کی جانب سے اسے سزائے موت سنائی گئی ہے۔

گذشتہ ہفتے "داعش" کی جانب سے جاری ایک بیان میں یرغمال جاپانی ھارونا بوکاو ا کا سر قلم کیے جانے کی تصدیق کی تھی اور ساتھ ہی مطالبہ کیا تھا کہ وہ دوسرے یرغمالی کو اردن میں قید ساجدہ ریشاوی کے بدلے رہا کر سکتے ہیں۔ اس سے قبل داعش کی جانب سے دونوں جاپانی یرغمالیوں کے بدلے 200 ملین ڈالر تاون طلب کیا گیا تھا۔